22 اپریل 2013 - 19:30
اسلام پر الزام کیوں؟

امریکہ کے شہر بوسٹن میں ہونے والے دھماکے کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور اس میں مبینہ طور پر ملوث شخص کو گرفتار ہوئے چند دن ہی گزرے ہیں امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ دھماکہ کے مجرم جوہر سارنایف نے مذہبی جذبات کے تحت یہ دھماکہ کیا ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جوہر نے اپنے بھائی تیمور لنگ جو مارا گیا ہے کے ذریعے یہ کاروائی انجام دی ہے اور ان کا کسی اسلامی دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اس طرح کے اعلانات کے بعد امریکہ اور یورپ میں اسلام و فوبیا اور اسلام دشمنی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

ابنا: ۔ گزشتہ چند سالوں میں یورپی اور امریکی میڈیا نے ایسا ماحول بنایا ہےکہ کہیں بھی کوئی دہشت گردانہ کاروائی انجام پائی تو اس میں مسلمانوں کا نام لیا جاتا ہے حالانکہ دنیا کے مختلف حصّوں میں مختلف مذاہب اور اقوام کے لوگ بستے ہیں اور وہ اس طرح کی کاروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں لیکن کوئی انکو دہشت گرد نہیں کہتا مثال کے طور پر انڈریاس بریک برویک کو کسی نے نہ تو دہشت گرد کہا اور نہ اسکے مذہب عیسائیت کے بارے میں کسی نے اشارہ کیا حالانکہ اس نے بوسٹن سے زیادہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا وہاں پر کسی نے یہ بات نہیں کہی تھی کہ اس نے مذہبی جذبات سے متاثر ہوکر یہ کاروائی انجام دی ۔ اسطرح کے فرد کو زيادہ زيادہ فاشسٹ ، قوم پرست یا غیرملکی باشندوں سے نفرت کرنے والا کہا گیا۔یورپ میں اسلام دشمنی کی تحریک ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے اوراسطرح کے واقعات کو اسلام اور اسلامی تعلیمات کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اسلام کی بنیادی تعلیمات جہاد یا ظالم کے خلاف قیام کو غلط تشریحات کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان احکامات کو باقاعدہ دہشت گردی کے زمرے میں شمار کیاجاتا ہے ۔ حالانکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے کسی مسلمان عالم دین نے کبھی حمایت نہیں کی ہے ۔اس میں شک نہیں کہ خدا کے راستے میں جہاد وہ بھی خاص اصول و ضوابط کے تحت واجب ہے لیکن وہ میدان جنگ میں ہے نہ کہ گلیوں اور شہری آبادیوں میں عام شہریوں کے خلاف ہے ۔البتہ اسلام کے نام پر بعض جاہل لوگ اگر اسطرح کی کارروائیاں انجام دیں تو اسے اسلام سے ہرگز منسوب نہیں کیا جا سکتا۔دوسری طرف اگر ایک شخص جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے لیکن اردگرد کے معاشرے اور سیاست سے متاثر ہوکر کسی عام شہری کو نشانہ بناتا ہے تو اسے حقیقی مسلمان نہیں کہا جا سکتا ۔ اسکی مثال ایسی ہے کہ جیسے بوسٹن کے دھماکوں میں ملوث افراد چونکہ امریکی ہیں لہذا یہ کہہ دیا جائے کہ چونکہ یہ امریکی قوم سے تعلق رکھتا ہے لہذا اس نے اپنی قوم سے متاثر ہوکر یہ کاروائی انجام دی ہے ۔بہرحال جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ اسطرح کے دھماکہ اسلام مخالف عناصر کے ہاتھوں میں ایک بہانہ بن جاتے ہیں جس سے وہ اسلام کے خلاف اپنی دلی نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور اسطرح دنیا بھر میں موجود ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنتے ہیں ۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ عرصے میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ بلاواسطہ یا بالواسطہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گيا اگر گیارہ ستمبر کے واقعہ میں دوہزار عیسائی اور چند یہودی ہلاک ہوئے  ہیں تو گیارہ ستمبر کے بہانے جن دو مسلمان ملکوں عراق اور افغانستان کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا وہاں دس لاکھ سے زيادہ مسلمان جاں بحق ہوئے ہیں افغانستان اور پاکستان کے عوام تو ابھی تک امریکی حملوں اور ڈرون طیاروں کا شکار ہورہے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں نے کبھی عیسائیت کو اس ظلم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا مسلمان تو حتی اسرائیلیوں کے مظالم کو بھی یہودیت کے کھاتے میں نہیں ڈالتے یہی وجہ ہے کہ  کسی بھی مسلمان ملک میں یہودیت کے خلاف باقاعدہ دشمنی کی صورتحال نہیں ہے ۔

.....

/169