19 اپریل 2013 - 19:30
ترکی جوہری ہتھیار کیوں ذخیرہ کر رہا ہے؟

عرصۂ دراز سے جب بھی ایران کے پر امن جوہری پروگرام کو بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے کئی غیر جانبدار مبصرین جواباً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں واحد اسرائیلی حکومت ہی کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ یہ مبصرین بھولے سے بھی کبھی ترکی کا نام نہیں لیتے کہ یہ ملک بھی اپنی سرزمین پر جوہری بم کی نگہداشت کر رہاہے۔

ابنا: عرصۂ دراز سے جب بھی ایران کے پر امن جوہری پروگرام کو بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے کئی غیر جانبدار مبصرین جواباً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں واحد اسرائیلی حکومت ہی کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔ یہ مبصرین بھولے سے بھی کبھی ترکی کا نام نہیں لیتے کہ یہ ملک بھی اپنی سرزمین پر جوہری بم کی نگہداشت کر رہاہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوز نورکی رپورٹ کے مطابق ترکی میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی اپنی غیر معمولی اسٹریٹیجک اہمیت کے با وجود مبصرین اور سیاستدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرا پاتی۔تاہم ال مانیٹر نامی تجزیاتی ویب سائٹ نے پہلی بار اِس معاملہ سے پردہ اٹھایا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔

ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ شام میں شورش سے قبل دمشق اور انقرہ میں گہرے تعلقات تھے اور اُس وقت ترکی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ محض چند برس بعد اسے شام کی جانب سے دفاعی خطرات لاحق ہوں گے۔۲۰۰۹ میں شام اور ترکی کے درمیان اعلیٰ دفاعی تعاون کونسل کا اجلاس ہوا تھا جس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’’طرفین نے مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں پاک کرنے کی ضرورت پر اتفاق کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام کی تازہ ترین صورتحال اور اس حوالہ سے ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لیا ہے۔چونکہ ہر ملک کو جوہری توانائی کے استعمال کا حق ہے اس لئے ہم اس معاملہ کے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں‘‘۔

ال مانیٹر کے بقول نیٹو کے رکن ترکی کا جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ کی بات کرنا واضح تناقض ہے۔ ’’جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ‘‘ کی اصطلاح اسرائیل مخالف پالیسی کی تھیم کے طور پر ۲۰۰۹ کے داووس اجلاس اور پھر ۲۰۱۰ میں ماوی مرمرہ نامی ترک کشتی پر اسرائیلی حملہ کے بعد منظر عام پر آئی۔ اس میں شک نہیں کہ جوہری ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطیٰ کی تمنا اچھی چیز ہے لیکن اگر یہ مطالبہ ترکی کی جانب سے سامنے آئے تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ترکی مشرق وسطیٰ کے اُن واحد دو ملکوں میں سے ایک ہے جو اپنی سرزمین پر جوہری ہتھیاروں کے نگہداشت کر رہے ہیں۔اسرائیل کے پاس ایسے ہتھیاروں کی موجودگی سب پر عیاں ہے۔تاہم ترکی کے پاس امریکی ساخت کے بی اکسٹھ(۶۱) جوہری ہتھیاروں کا ہونا چنداں ڈھکا چھپا معاملہ نہ ہو کر بھی مبصرین اور سیاستدانوں کے تجزیہ و تحلیل کا موضوع نہیں بنتا۔

ترکی اور اسرائیلی ریاست میں فرق یہ ہے کہ اول الذکر کے شہر آداتا کے قریب واقع اینجرلک سائٹ پر ذخیرہ کئے گئے جوہری بم امریکی حکومت کی ملکیت ہیں ۔فضا سے زمین پر مار کرنے والے اِن خودکار بموں کی تعداد ’’ضرورت کے اعتبار سے‘‘ بدلتی رہتی ہے۔بی اکسٹھ بم ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے اپنے اتحادی نیٹو اراکین کے لئے قائم کردہ دفاعی شیلڈ کا اہم حصہ ہیں۔

یہ بم سرد جنگ کے دوران انجرلک میں سوویت یونین کے مقابلہ میں عسکری طاقت کا توازن قائم کرنے کے لئے نصب کئے گئے لیکن تا بہ حال اپنی جگہ پر موجود ہیں۔تاہم معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک ہواباز وں کو یہ چلانے کی تربیت نہیں دی گئی ہے اور اِس ملک کے ایف سولہ لڑاکا طیارے انہیں کہیں لے جانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔

ترکی کے ساتھ ساتھ نیٹو کے رکن دیگر ممالک؛ بیلجیم، ہولینڈ، جرمنی اوراٹلی کی سرزمینوں پر بھی نصب ہیں۔ماسوائے اٹلی کے دیگر تین ممالک نے اپنی سرزمینوں سے مذکورہ بموں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن ترکی نے ایسا کوئی مطالبہ کیا ہو، اس کے امکانات معدوم ہیں۔

نئے مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹکس کے پیش نظر ترکی کے لئے ان بموں کی اہمیت دو چنداں ہو گئی ہے۔اور وہ جیوپولیٹکس ہےشام اور ایران کا مقابلہ ۔

شام کے حالات سب پر عیاں ہیں۔یہاں شورش سے پہلے ترکی کے دمشق کے ساتھ گہرے تعلقات تھے۔ لیکن شورش شروع ہونے کے بعد سے ترکی شام کے خلاف فوجی چڑھائی کے علاوہ وہ سب کچھ کر گذرا ہے جو اُس کے بس میں تھا۔ ترک حکومت جوکہ شام میں اخوان المسلمین کی حامی حکومت بنانا چاہتی ہے جانتی ہے کہ اُس کی کاروائیاں دمشق کی جانب سے دشمنی پر مبنی قرار دی جائیں گی اور اسی وجہ سے اسے شام کے کیمیکل ہتھیاروں پر تشویش ہے۔

دوسری جانب جوہری میدان میں ایران کی روزافزوں ترقی نے ترکی کو اِس تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری بم بنانے کا ارادہ کر لیا تو علاقہ میں ترکی کی اہمیت بہت کم ہو جائے گی۔ کچھ برس قبل یہ ملک ایران کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر عالمی نظام کو چیلنج کرکے آگے بڑھنے کے مواقع تلاش کر رہا تھا لیکن اب اُسی نظام کے ساتھ مل کر ایران کے بالمقابل صف آراء ہو گیا ہے۔

بہرحال، انہیں ساری وجوہات کے باعث ترکی مخفیانہ طور پر اپنی سرزمین پر نیٹو ممالک کی دفاعی شیلڈ کےاہم حصہ کے بطور نصب کردہ ایٹمی بموں کا حامی اور علاقہ کے بدلے حالات میں اپنی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے۔

.......

/169