ابنا: صدراحمدی نژادنے اپنے چار روزہ دورے میں بنین ، نائیجر اورگھانا کےصدور اور اعلی حکام سے ملاقات اورگفتگو کی اور باہمی تعلقات اور ہمہ گیر تعاون میں فروغ پرتاکید کی۔
صدرمملکت نے اپنےدورے کےموقع پر ان ملکوں کےساتھ تعاون کےکئی معاہدوں پردستخط بھی کئے۔
صدر مملکت سب سے پہلے بنین پہنچے اور اس ملک کےصدر یای بونی سےملاقات کی۔صدرمملکت نےملاقات کےدوران اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ دنیا کواصول اور قوموں کےمشترکہ مقاصد کی بنیاد پر منصفانہ نظام کی ضرورت ہے کہاکہ قومیں اور ممالک ایک دوسرے کےساتھ کھڑے ہوکر مشترکہ تعاون کےذریعے عالمی تعلقات میں اس اصول پرعمل کرسکتے ہیں۔
صدراحمدی نژاد نےبنین سمیت افریقی ممالک کےساتھ تعلقات میں فروغ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کاحصہ قرار دیا اور کہاکہ ایران اور بنین جو دوستانہ تعقلقات کےحامل ہیں ایک محاذ پرکھڑے ہوسکتے ہیں۔
ناوابستہ تحریک کےسربراہ ڈاکٹراحمدی نژاد نے ابومہ کالاوای یونیورسٹی کے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے دنیا پر مسلط اقتصادی نظام کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہاکہ یہ نظام پوری طرح سسٹیمیٹیک طریقے سے قوموں کی محنت کی کمائی، عالمی سرمایہ داروں کی جیب میں ڈال رہا ہے۔
صدراحمدی نژاد نے عالمی تاریخ کےایک دور میں غلامی اورسامراجی طرز فکر کی حاکمیت کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہاکہ غلامی اورسامراجی طرز فکر اب بھی ختم نہيں ہوا ہے اور اس بار سامراج نئی روش اور نئے ہتھکنڈوں سے اسی سابقہ مقاصد کےحصول کےدرپے ہے۔ آج دنیا پرحکمراں نظام کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جوایک مدت تک سامراجی نظام پرعمل پیرا رہے ہیں ۔
ایران کےصدر نے اپنے دورے کےدوسرے مرحلےمیں نائیجرپہنچے اوراس ملک کےصدر سےملاقات میں اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہ سامراج نئی شکل میں سامراجی نظام تشکیل دینے کی کوشش میں ہے کہاکہ موجودہ حالات میں ممالک اورخود مختار قومیں، ترقی اور دشمنی کے خاتمے کے لئے ایک دوسرے کےساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کی خواہاں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر نے تاکید کےساتھ کہاکہ آج کاسامراج نئے نعروں سےمیدان میں آیا ہے اور نہایت پیچیدہ منصوبوں سے مسلمان اورخودمختار قوموں کو پیشرفت سےروکناچاہتا ہے۔
صدراحمدی نژاد نے اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ دنیا کی جوقوم بھی خودمختاری اور ثقافت کی حامل ہوتی ہے، دشمنوں کےنشانے پرہوتی ہے کہاکہ سامراج نے سیکڑوں سال تک قوموں کی دولت وثروت لوٹ کراپناگذر بسرکیا اورآج بھی اسی دور کوبحال کرناچاہتا ہے اور ان کےلئے اس موقع کودوبارہ حاصل کرنے کےلئے قوموں کےدرمیان اختلاف، تفرقہ ، بدامنی، قتل اورلوٹ مارجاری رہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ناوابستہ تحریک کےاراکین کےفعال ہونے کی ضرورت پرتاکیدکرتےہوئے کہاکہ ناوابستہ تحریک کی صلاحیتوں سے انسانی والہی مقاصد اورتمام براعظموں میں قیام امن نیز ملکوں کی تعمیر کے لئے تعاون میں اضافے کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
صدراحمدی نژاد اپنے دورے کےآخری مرحلے میں افریقی ملک گھانا پہنچے اور اس ملک کےصدر سےملاقات میں تعاون میں تاکیدکی ضرورت پرتاکید کی اور کہاکہ آج وہ وقت آگیا ہےکہ خودمختارممالک، دوطرفہ سطح پراپنےتعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران اورگھانا نے باہمی تعلقات کوفروغ دینے کےلئے ایک مشترکہ بیان اور چارمعاہدوں پردستخط کئے۔
صدرمملکت نےگھانا کی اسلامی یونیورسٹی کےطلباء اور اساتذہ کے اجتماع میں کہا کہ دنیا کےجس حصے میں بھی غریبی، طبقاتی فاصلہ ، جنگ اورکینہ ودشمنی موجود ہو وہاں تسلط پسندوں اورعالمی شیطان ملوث نظرآتے ہیں کیونکہ تسلط پسند، انسانوں کوہمیشہ غربت ، پسماندگی ، جہالت ، جنگ اورکینہ میں مبتلاء رکھناچاہتے ہیں۔
صدراحمدی نژاد نے تمام انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری توحید، اوردنیا میں انصاف ومحبت کوقراردیا اورکہا کہ اگرانسانوں نے منہ زوروں اور اقتدارپسندوں کےسامنےگھٹنے ٹیک دیئے تو دنیا میں انسانیت کانام ونشان مٹ جائےگا اوربدعنوان حکومتوں کےسامنے ملت ایران کی استقامت، درحقیقت اپنی انسانیت اوردنیا کی تمام قوموں کےدفاع کےلئے ہے۔
.....
/169