17 اگست 2026 - 17:23
اسرائیلی جیل جانوت میں فلسطینی قیدیوں پر مظالم میں اضافہ؛ خوراک، نیند اور بنیادی سہولیات سے محرومی

فلسطینی قیدیوں کے اطلاعاتی دفتر نے اسرائیلی جیل جانوت کے انفرادی حصے میں قید فلسطینیوں کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں خوراک، لباس اور حفظانِ صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کے ساتھ تشدد، مارپیٹ اور نیند سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی قیدیوں کے اطلاعاتی دفتر نے بتایا ہے کہ جانوت جیل کے انفرادی حصے میں قید فلسطینی قیدیوں کو خوراک، لباس اور صفائی کے سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ جیل حکام کی جانب سے بدسلوکی، دھکے دینے اور مارپیٹ سمیت مختلف قسم کے تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جیل اہلکار رات کے اوقات میں دروازوں اور کھڑکیوں پر بار بار دستک دے کر جان بوجھ کر قیدیوں کی نیند اور آرام میں خلل ڈالتے ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے اطلاعاتی دفتر نے مزید بتایا کہ انفرادی قید خانے میں چہل قدمی کے لیے باہر جانے کا وقت انتہائی محدود ہے اور بعض اوقات قیدیوں کو ہر دو دن میں صرف 15 منٹ کے لیے باہر نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

رپورٹ میں صفائی اور حفظانِ صحت کے سامان، گرم پانی سے نہانے اور بال و داڑھی بنانے کی سہولت کی محدود دستیابی، لباس کی قلت اور خوراک کی کم مقدار اور ناقص معیار کو بھی قیدیوں کو درپیش مشکلات میں شامل کیا گیا ہے۔

اس وقت مہند شریم، عباس السید، جمال الہور، اسلام حامد اور رزق رجوب جانوت جیل کے انفرادی حصے میں قید ہیں، جبکہ عبداللہ البرغوثی اور مناضل انفیعات کو بھی انفرادی قید خانوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کے اطلاعاتی دفتر نے انسانی حقوق اور امدادی اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے جانوت جیل میں قیدیوں کی صورتحال بہتر بنانے اور اسرائیل کو فلسطینی قیدیوں کے خلاف مبینہ جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha