اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے کنیسٹ کے تحقیقاتی و اطلاعاتی مرکز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیرونِ ملک سے واپس آنے والے صہیونیوں کی تعداد 2020 میں تقریباً 8 ہزار تھی جو 2024 میں کم ہو کر تقریباً 3 ہزار 800 رہ گئی، جو حالیہ برسوں کی کم ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2012 کے دوران سالانہ اوسطاً 9 ہزار 300 افراد اسرائیل واپس آئے، جبکہ 2013 سے 2020 کے دوران یہ اوسط تقریباً 7 ہزار 400 رہی۔ اس کے برعکس مقبوضہ علاقوں سے بیرونِ ملک جانے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
کنیسٹ کی رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران اسرائیل سے بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد وہاں آنے والے افراد سے تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار زیادہ رہی۔
رپورٹ میں رہائش اور روزگار کے مسائل، محدود سرکاری سہولیات، صحت کی خدمات کے حصول میں چھ ماہ تک انتظار اور واپس آنے والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیمی نظام میں ضم کرنے کی مشکلات کو صہیونیوں کی واپسی میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا ہے۔
کنیسٹ کی کمیٹی برائے ہجرت، انضمام اور بیرونِ ملک یہودی امور کے سربراہ گیلاد کاریو نے بھی اسرائیلی حکومت کو الٹی ہجرت سے نمٹنے کے لیے جامع حکمتِ عملی نہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت متعدد اجلاسوں کے باوجود الٹی ہجرت کی بڑھتی ہوئی لہر سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص ادارہ قائم نہیں کرسکی اور بیرونِ ملک مقیم صہیونیوں کو واپس لانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ بھی تیار نہیں کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ