10 اپریل 2013 - 19:30
میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائیگا

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ شخصیت جس نے محرومین کو زبان عطا کی اور ظالم و جابر کو ببانگِ دہل ظالم کہنے کا شعور دیا اور دنیا بھر کے دانشوروں کے سامنے قیادت کا بے لوث معیار پیش کیا۔اس کا نام سید روح اللہ الموسوی الخمینی اورآج ہمیں بھی ان اسلامی جام میں’’ولایتی شراب‘‘پیش کرنے والوں سے چھٹکارے کا واحد راستہ راہِ امام خمینی (رہ) کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

حالات کے دوش پر سفر کرنے والا کردار تاریخ کا کردار ہے لیکن حالات کی تخلیق کرنے والا کردار’’تاریخ ساز کردار ‘‘ہے۔ مردانِ ہمت تاریخ اور وقت کے دربارِ کجکلاہی میں جان نہ چھوڑنے والے سائل کی طرح کا سہ بردار گدا گر نہیں بنتے بلکہ اپنی جرات و ہمت اور فکر وتدبر سے تاریخ کے دھارے کو بدل دیتے ہیں یا ان بانکے نوجوانوں کی طرح جنہوں نے بسترِ شباب کو حقارت سے دیکھ کر عروسِ شہادت کو گلے سے لگا لیا اور قدسیوں کی ضیافت میں پہنچ گئے کے راستے کو اپنا لیتے ہیں۔ حالات کے سائے میں سفر کرنے والے کو اگر ابن الوقت کہتے ہیں تو حالات کے ساتھ ٹکرا کر نبضِ وقت کو اپنی گرفت میں لینے والے کو ابوالوقت کہنا چاہیے۔ وقت کے بدلتے حالات میں سیاستدان اور نام نہاد مذہبی رہنما حصولِ اقتدار کی خاطر بنیادی پالیسی تبدیل کردیتے ہیں ۔صبح ایک نوٹیفیکشن جاری کرتے ہیں اور شام کو کہتے ہیں نہیں ہم نے نہیں کیا اور اس طرح اپنے بنیادی نظریہ سے منحرف ہو جاتے ہیں یہی ابن الوقتی ہے۔دنیا میں اس وقت کم و بیش پچاس ایسی حکومتیں ہیں جو اسلامی حکومتیں کہلاتی ہے کیا یہ سب حکومتیں واقعاً اسلامی حکومتیں ہیں؟ یا صرف اس بنا پر کہ ان کے حکمران واقعاً یا برائے نام مسلمان ہیں۔ان حکومتوں پر اسلامی حکومت کا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے اگر اس مسئلہ پر حقائق کی روشنی میں انصاف سے غور کیا جائے تو یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ درحقیقت حکمران کا مسلمان ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ حکومت بھی اسلامی ہو۔اس وقت آپ عوام کو چھوڑئیے پڑھا لکھا طبقہ خواہ وہ یونیورسٹی کا فارغ الحتصیل ہو یا دینی طلاب کا طبقہ ہو اسلام کو درست طریقہ سے نہیں سمجھا اور غلط فہمی میں مبتلا ہے جس طرح لوگ اجنبی مسافر کو نہیں پہچانتے اسی طرح یہ لوگ اسلام کو نہیں پہچانتے ۔اسلام اس وقت دنیا میں غریب الوطنی کی زندگی بسر کررہا ہے اور اگر کوئی اسلام کی بات کرے تو معاشرے میں موجود روایتوں کی سیاہ پوشاک پہننے والے استعماری ایجنٹ یا عدم ریاضت والے مبلغین شورو غوغا مچا دیتے ہیں۔اور اس طرح اگر کوئی جمہوریت،آمریت و شہنشائیت کے مقابلے میں اسلامی حکومت کی بات کرنا چاہے تو اسے استعمار سے زیادہ لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اگر ہم تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو جب اسلامی اقدار روبہ زوال تھی،اسلامی احکام کا سرعام مذاق اُڑایا جا رہا تھا۔ اسلام بنی امیہ کی سفاک نسل کے خونی پنجوں میں سسک رہا تھا اور باطل اسلام کی نقاب پہن کر اسلام کو مٹانے کیلئے یزید کے روپ میں منبرِ دمشق سے تکذیب رسالت کررہا تھا تب اسلام کی نگاہیں وارثِ رسولؐ،سردار جوانانِ جنت حسین ابن علی  (ع) پر مرتکز ہو کر رہ گئیں۔ امام حسین (ع) کا مشہور خطبہ جو آپ نے منیٰ کی سرزمین پر ہزاروں مذہبی عمائدین کے رو برو دیا اس بات کی گواہی ہے کہ قوانین و احکام کی تشکیل کا حق صرف اور صرف خدا کی ذات کو ہے نہ کہ عوام کے منتخب شدہ نمائندوں کو جو قیمتی سگاروں کی دھواں چھوڑنے کے بعد ڈینگیں مارتے ہیں۔امام حسین (ع) کے اس مشہور خطبہ منیٰ کو سلیم بن قیس ہلالی(وفات90ہجری) اور چوتھی صدی ہجری کے عظیم محدث حسن بن شعبہ حرانی نے اپنی گرانقدر کتاب’’تحف العقول‘‘ میں نقل کیا ہے۔ خطبے کے ایک حصہ میں امام حسین (ع)فرماتے ہیں’’تعجب ہے! اور کیوں تعجب نہ ہو ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے۔اس کے مالیاتی عہدے دار ظالم ہیں اور صوبوں میں اسکے گورنر مومنوں کیلئے سنگ دل اور بے رحم ہیں اللہ ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے اور وہی ہمارے اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا۔ بارالہا!تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہماری طرف سے ہوا ہے وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے اور نہ ہی یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہے کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کردیں اور تیری مملکت میں اصلاح کریں‘‘امام حسین (ع) اپنے اس نورانی اور تاریخی خطبے میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ اگر اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم نہ کی جائے تو پھر قدرتی طور پر یہ ہوگا کہ اس کی جگہ ظالم و ستمگر اور بد قماش افراد معاشرے پر چھا جائیں گے۔اس اسلامی پس منظر اور آزادی کیلئے جدوجہد کے باوجود پاکستان کے مذہبی رہنما نہ تو دینی بنیادی پر متوازن نظام حکومت عوام کے سامنے پیش کرسکے ہیں اور نہ ہی عامتہ الناس کو مذہبی طبقہ کی فکری تخلیقی صلاحیت پر اعتماد ہے۔ بد قسمتی سے مذہبی قیادت گروہی اور مسلکی تنازعات میں اس قدر اُلجھی ہوئی ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا پروگرام ہی نہیں جس میں لوگوں کو ظلم و جبر سے نجات کا راستہ نظر آتا ہو۔ سیاسی سطح پر آج پاکستان کے شہری بے یقینی کا شکار ہے کیونکہ انہوں نے محسوس کر لیا ہے کہ مٹھی بھر سیاسی اکابرین نے قوم کو یرغمال بنا لیا ہے ۔سیاسی قیادت سے فوجی لیڈر شپ تک انقلاب کا جھوٹا نعرہ لگا کر اقتدار پر قابض ہوتی ہے۔مذہبی اکابرین نے نظام مصطفی(ص) کا نعرہ دے کر لوگوں کو بے یقینی کے صحرا میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔یہ نام نہاد رہنما اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سر گرداں نظر آتے ہیں۔ جمہوریت کا نام اس لئے لیتے ہیں کہ ان کے وسائل محفوظ رہیں۔ وہ نظام جس کی بنیاد استحصال اور دریوزہ گری پر ہو وہ قوم کے مسائل کا حل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ نظام تو فرعون اور قارون کی وراثت ہے جسے ارکان حکومت قائم رکھے ہوئے ہیں۔بقول مصورِ پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبالگریزازطرز جمہوری غلامِ پختہ کارِ شوکہ از مغز دوصد خرفکر انسانی نمے آید’’جمہوری نظام سے دور بھاگو اور کسی صاحب کردار،صاحب علم و عمل پختہ کار کو اپنا رہبر بناؤ کیونکہ دو سو گدھوں کی عقل مل کر انسانی عقل کے برابر نہیں ہو سکتی‘‘۔یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ شخصیت جس نے محرومین کو زبان عطا کی اور ظالم و جابر کو ببانگِ دہل ظالم کہنے کا شعور دیا اور دنیا بھر کے دانشوروں کے سامنے قیادت کا بے لوث معیار پیش کیا۔اس کا نام سید روح اللہ الموسوی الخمینی اورآج ہمیں بھی ان اسلامی جام میں’’ولایتی شراب‘‘پیش کرنے والوں سے چھٹکارے کا واحد راستہ راہِ امام خمینی (رہ) کو اپنانے کی ضرورت ہے۔پاکستانی معاشرہ میں اسلامی انقلاب کے اثرات آہستہ آہستہ مرتب ہو رہے ہیں ۔ہمارے دانشوروں اور عوام نے انقلاب کے محرکات و اسباب و تنائج اور انقلابی طور طریقوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ کافی پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔اب ہمارے مذہبی عمائدین کو بھی معلوم ہو گیا ہے اس وطن عزیز کو بار بار جمہوریت و آمریت کے سپرد کر دیا جاتا ہے جس کے حکام لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے خود سری دیکھاتے ہے۔ پاکستان کے بہت سے حصوں میں پینے کیلئے صاف پانی میسر نہیں ہے اور دوسری طرف ان حکمرانوں کی ٹائیلٹ میں منرل واٹر استعمال ہوتا ہے ریاستی ایجنسیاں اور سیاسی کارکن انقلابی فکر و انقلابی عمل کا گلا گھوٹنے کی ناکام کوشش میں مصروف عمل ہیں لیکن جن لوگوں نے انقلابِ اسلامی کو قریب سے دیکھا ہے وہ انقلابی عمل سے وارفتگی کی حد تک وابستگی رکھتے ہیں اورتا دمِ آخر اس پیغام کوہر طبقے تک پہنچاتے رہیں گے ۔اب آخر میں یہ پیغام احمد فراز مرحوم کے اشعار کی صورت میں عرض کرتا چلوں۔میرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کیجو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہےمیرا قلم نہیں تسبیح اُس مبلغ کیجو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہےمیرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کیمیرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہےاسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھاتبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہےمیں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھےکہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گاتمام عمر کی ایزا نصیبیوں کی قسممیرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا تحریر: حسن رضا تقویسابق صدر امامیہ اسٹوڈنٹس اورگنازیشن پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲