26 مارچ 2013 - 19:30

ہمیں ایک شہید کا خون آلود جسد تو نطر آتا ہے، ملی اقدار کے پیکر نازنین سے بہنے والی خون کی دھاریں نظر نہیں آتیں۔ آج طاغوتی میڈیا بڑی سرعت کیساتھ نئی نسل کی روحوں کو ذبح کرنے میں مصروف ہیں۔ آج اسلامی اقدر کی شاندار عمارت شیطانی کلچر کے سیل رواں کی زد پر ہے۔ خوابیدہ مسلم معاشروں کے فکری و نظریاتی مستقبل کے افق پر فحاشی کلچر، اخلاقی انحرافات، بے راہ روی، مغربی سیکولر میڈیا، لامذہبیت، لامذہب سیاست اور لسانیت کے خوفناک بادل اور سیاہ آندھیاں چھائی ہوئی ہیں۔

ابنا: وہ نہایت حسین، وجیہہ اور صحت مند جوان تھا۔ چہرہ نہیں چودہویں کا گویا دمکتا چاند ۔ ۔ ۔ مگر! وہ بری طرح سسک رہا تھا، تڑپ رہا تھا، بڑی بےقراری تھی، عجیب سی بےچینی اس کے چہرے پر تھی، وحشت اور خوف کے سیاہ شعلے نکل رہے تھے۔ اسکی آنکھون سے حسرت ٹپک رہی تھی۔ اسکے ہونٹوں نے چیخ کی جرات سے انکار کر دیا تھا۔ وہ برگ بید کی طرح کپکپا رہا تھا۔ دل کی دھڑکن بےقابو تھی۔ اس کے ہاتھ کمر سے بندھے ہوئے تھے۔ چار کلاشنکوف بردار نقاب پوش پاس ہی کھڑے اسے گھور رہے تھے۔ اچانک خوف و خدشات کے بکھرے تصورات نے سرخ حقیقت کا بےرحم روپ دھار لیا۔ پھلدار چھری کی دہار نے گلے کو چھوتے ہی پورے جسم میں سنسنی سی دوڑا دی۔ اب وہ تیزی سے ایڑیاں رگڑنے لگا، تیز دہار چھری کی ایک ایک کاٹ قیامت کی تھی۔ بےگناہ نوجوان کی روح ہزاروں ارمانوں کو اپنے بےجان سینے کے قبرستان میں دفن کر کے سوئے آسمان پرواز کر گئی۔ یہ مظلومیت کی ان ہزار داستانوں میں سے ایک داستان تھی جن کی تکرار ملک کی ہر شاہراہ، ہر خیابان اور ہر گلی میں جاری ہے۔ اس منظر کے تصور سے ہی اشک  بےاختیار میری آنکھوں سے جاری ہو گئے۔ لہو کی ارزانی پر میرا دل خون کے آنسو روتا ہے، صرف میں ہی نہیں ظلم و بربریت کی اس تکرار پر ہر درد مند اور باشعور گریہ کناں ہے۔ مگر ہم نے حالات کے صرف ایک ہی پہلو پر نظر جما رکھی ہے، خودکش حملے، اغوا، آٹو میٹک ہتھیاروں سے فائرنگ اور خون میں لت پت لا شیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔! صرف انہی کو دہشت گردی، جارحیت، شب خوں اور سازش کا عنوان دے رکھا ہے۔ حالانکہ امت مسلمہ کے خلاف جاری( خونی مہم ) کے اور بھی پوشیدہ پہلو ہیں۔ ہم صرف چند ایک معاملات پر حساسیت دکھاتے ہیں جبکہ گروہ شیطان نے فرزندان توحید کے خلاف مشرق سے لیکر مغرب تک ہزاروں نوع کے محاذ کھول رکھے ہیں۔ اکثر محاذ ایسے ہیں جن کی ہمیں شناخت تک نہیں ہیں اور دشمن کامیابی کے ساتھ فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طاغوتی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے جس موثر ترین ہتھیار کا سہارا لے رہی ہیں وہ میڈیا کا اسلحہ ہے۔ ہالی ووڈ اور بالی ووڈ دو ایسے نظریاتی دہشت گرد ہیں جنہوں نے اسلامی معاشروں کے اندر گذشتہ چند دہائیوں سے مسلسل منظم نظریاتی گوریلا کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے۔ جدید طاغوتی میڈیا کے ثقافتی و نظریاتی حملے خون خوار دہشت گردوں کے حملوں سے کئی گنا زیادہ تباہ کن ہیں۔مگر مشکل یہی ہے کہ ہمیں ایک شہید کا خون آلود جسد تو نطر آتا ہے، ملی اقدار کے پیکر نازنین سے بہنے والی خون کی دھاریں نظر نہیں آتیں۔ آج طاغوتی میڈیا بڑی سرعت کیساتھ نئی نسل کی روحوں کو ذبح کرنے میں مصروف ہیں۔ آج اسلامی اقدر کی شاندار عمارت شیطانی کلچر کے سیل رواں کی زد پر ہے۔ خوابیدہ مسلم معاشروں کے فکری و نظریاتی مستقبل کے افق پر فحاشی کلچر، اخلاقی انحرافات، بے راہ روی، مغربی سیکولر میڈیا، لامذہبیت، لامذہب سیاست اور لسانیت کے خوفناک بادل اور سیاہ آندھیاں چھائی ہوئی ہیں۔ دہشت گردی، اغوا، شب خون، ظلم و بربریت اور جارحیت یہ وہ الفاظ ہیں جن کے معانی ہم نے سمیٹے ہوئے ہیں۔ یہ وہ تمام جرائم ہیں جن کا ارتکاب طاغوت نظریاتی محاذ پر بڑی مہارت کے ساتھ کر رہا ہے۔ نام نہاد سیاسی پارٹیوں نے ملت کو نظریاتی سطح پر مکمل طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان سیاسی جماعتوں نے معصوم نوجوانوں کی آنکھوں پر اپنے مذموم ایجنڈوں اور کھوکھلے نعروں کی پٹیاں باندھ کر اپنے ذاتی و تنظیمی مفادات کے میدان میں الجھائے رکھے ہیں۔ اسلامی اقدا ر کا پاکیزہ خیمہ طاغوتی میڈیا کے شب خون کی زد میں ہے۔ پردہ، حیا، عفت، پاکدامنی وہ مظلوم اسلامی اقدار ہیں جن پر عورتوں کے حقوق، ماڈرن ازم، مغربی طرز کے تعلیم نسواں، رنگین تقریبات، شاندار تفریحات، میلے، فنکشن، نعت خوانی و مقابلۂ تقاریر کی آڑ میں شدید حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسلامی سماج کے اندر صنف نسواں کے بلند و ارفع مقام اور قابل رشک عظمت کے باوجود مغربی میڈیا دختران اسلام کو عزت و افتخار کے اوج ثریا سے اٹھا کر بے پردگی، بے حیائی، پستی اور بے وقعتی کی گہری کھائی میں جھونکنے پر تلا ہوا ہے۔ دور جدید کا بےلگام میڈیا اسلام کی پرورش اور تحفظ کیلئے آمادہ قافلہ زینبی کی باعفت و بابصیرت کنیزان حضرت زہرا (س) میں شامل مخدرات کے سب سے بڑے قیمتی فکری سرمائے پر شب خون مار رہا ہے، اس مغربی یلغار کا مقابلہ کرنا بقائے نہضت کربلا و تشکیل بسیج راہ اسلام کے لئے ازحد ضروری ہے۔دہشت گردی ہر سطح پر ناقابل معافی جرم ہے، مگر خطرناک دہشت گردی وہ نہیں ہوتی جو گولیاں مار کر ایک بےگناہ کو شہید کر دے۔ خطرناک دہشت گرد وہ ہوتا ہے جو ایک قوم کے جسم سے ایمان کی روح نکال دے، جو ایک باایمان، باتقو اء، باغیرت، باحیاء، باشرف، بابصیرت اور بیدار سماج کی تاریخی و عقیدتی امین نئی نسل کے دامن سے ایمان کا گوہر بے بہا چھین لے، جو اس پاکیزہ نسل کے دلوں میں موجود تقوی و پاکدامنی کی فروزان مشعل نور کو خاموش کر دے، جو غیرت مندوں کے دلوں میں موجزن غیرت کے سمندر کو خشک کر دے، جو بیٹیو ں کے چہرے سے حیا کی سرخی دھو ڈالے، جو باشرف جوانوں سے متاع شرافت چھین لے، جو نئی نسل کے ذہنوں میں روشن بصیرت کی شمعوں کو بجھا کر اسے ہمیشہ کیلئے غفلت کی نیند سلا دے، فکری غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہماری ملی تاریخ کا یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری نئی نسل فکری لحاظ سے مسلسل انحطاط کی طرف بڑھ رہی ہے، غفلت و بےبصیرتی کے اس جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ہم نے اس الٰہی امانت (نسل نو) کو مکمل طور پر طاغوتی میڈیا کے سپرد کر دیا ہے۔ نئی نسل کی روحانی، اخلاقی، نظریاتی اور فکری تربیت کیلئے ہم صرف وعظ و نصیحت کے قدیم طریقوں پر اکتفاء کر رہے ہیں جبکہ مغربی پیغام رساں میڈیا اپنا ہر ایجنڈا پرکشش پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کے اذہان میں منتقل کر رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات کا ادرا ک نہ رکھنے اور اپنے اعلٰی اخلاقی و انسانی و الٰہی ذمہ داریوں سے پہلو  تہی کا یہ راستہ اس تاریک منزل کی طرف جاتا ہے، جہاں روحانی و اخلاقی تربیت سے عاری ایک بےادب، سرکش نسل اور فکری و ثقافتی اعتبار سے عبرت ناک شکست و ریخت ہمارے سماج کا انتظار کر رہی ہے۔oxfordکی تیسری یا چوتھی کی ایک کتاب کی کہانیthe piper ہے، اس کہانی میں ایک جادو گر جب اس شہر کے لوگوں سے ناراض ہو جاتا ہے تو اپنی گٹار پر موسیقی کی دھن بجانے لگتا ہے جسے سن کر شہر کے سارے بچے اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ پہاڑ کے قریب پہنچ کر وہ جادو گر بچوں سمیت ایک غار میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غائب ہو جاتا ہے۔ اس جادوگر نے اس شہر کے لوگوں کو ان کی بددیانتی کی بڑی دردناک سزا دی۔ ہاتھ سے نکل جانے والی نسل شائد پھر کبھی ہاتھ نہ آسکے۔ اسپین میں یہی ہوا تھا۔ عالمی استعمار اور عیسائیت یورپ کے قلب میں ایک شاندار ماضی کی حامل تمام تر اسلامی اقدار کی شعاعوں سے منور اسلامی معاشرہ برداشت نہ کر سکا۔ اس اسلامی ریاست کی دھجیاں بکھیرنے کیلئے اسپین کے بازاروں میں فحاشیت و عریانیت کا سیلاب بہا دیا گیا جس میں نسل نو غرق ہو گئی۔ شاید اسپین کی مسلمان، نسل نو کو پھانسنے کیلئے بھی اسپین کے بازاروں میں اخلاق سوز فلموں کی بھرمار ہونے لگی، تالیوں اور رقص و سرور کی شاندار رنگین تقریبات منعقد ہو نے لگیں، F.M اسٹیشنز قائم ہوئے جہاں زندہ دل حضرات کے علاوہ باغیرت گھرانوں کی باذوق ماڈرن خواتین بھی اپنی پسند کی موسیقی کے فرمائیشات کرنے لگیں۔ ٹیلیفون پر رومان بھرے مکالمے نشر ہونے لگے۔ سامعین ہمہ تن گوش ان مکالموں کی گہرائیو ں میں پوشیدہ رموز کھوجنے میں غرق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور سماج کے فکری و نظریاتی سرحدوں کے محافظ پاپ میوزک کی سروں پر رقص جنوں میں مبتلا ہو گئے تو غفلت کے اس پرغنیمت موقع سے فائدہ اٹھا کر استعمار نے اسلام عزیز کو ہمیشہ کیلئے اسپین سے ملک بدر کر دیا۔ آجکی دہائی کی سب سے بڑی مسجد ایک خاموش میوزیم اور عرب معماروں کی فن تعمیرات کا شاہکار نمونہ بن کر رہ گئی ہے۔ عظیم کتابخانوں نے تاریخی نوادرات کے عجائب گھر کی حیثیت اختیار کر لی اور مسلمانوں کا شاندار ماضی اور پرافتخار فتوحات لوک داستانوں میں بدل کر سستی کتابوں کی دبیز سطروں میں روپوش ہو گیا۔ لیکن پاک سرزمین میں آج بھی وقت ہے کہ ہم ان نظریاتی قزاقوں کا راستہ روکنے کیلئے کمر باندھ کر میدان میں اتریں۔ اپنے افکار و نظریات کے تحفظ، نئی نسل کے ذہنوں تک منتقلی اور ان کی اسلامی خطوط میں تعلیم و تربیت کیلئے ہمارے پاس جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ، موثر اسٹریٹیجی ہو۔ ہمارے فکری محور و مرکز کے گرد قائم حصار کی مدافعانہ پالیسی، ثقافتی یلغاروں کو روکنے کیلئے جدید دور کی ضروریات سے لیس ہو۔................/242