20 مارچ 2013 - 20:30

جشن نوروز ہر سال بہار کے شروع ہونے پر منایا جاتا ہے، جب موسم میں بہار کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں اور ایک نئے موسم کی ابتدا ہوتی ہے اور اس مناسبت سے جشن نوروز کے موقع پر ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کا تجدید عہد کرتے ہیں اور اسی مناسبت سے یعنی جشن نوروز میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور آپس میں صلح و دوستی کا رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔

ابنا: نوروز فطرت کی تجدید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ نوروز کا مطلب نیا دن ہے۔ جشن نوروز آذربائیجان اور وسط ایشیاء کے ممالک جو ترک قومیتوں پر مشتمل ہیں، کے علاوہ ایران، افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں میں اپنے روائتی اور مذہبی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ایک اپنی مذہبی، ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔ نوروز کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ نوروز کے وقت سے کچھ پہلے پورا خاندان اس میز یا دسترخوان کے گرد بیٹھتا ہے اور گھر کا بڑا دعاؤں کی کتاب سے نئے سال کی دعا پڑھتا ہے۔ اس دوران وہ کتاب کے مختلف صفحوں کے درمیان کچھ رقم بھی رکھتا جاتا ہے، جو بعد میں خاندان کے افراد میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہ شکرانے کا ایک انداز ہے۔پاکستان میں بھی نوروز کی تقریبات کا آغاز ہوچکا ہے۔ گذشتہ دن جشن نوروز کی ثقافتی تقریب قائداعظم یورنیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان نے جشن نوروز کی تقریب کا افتتاح کیا اور ابتدائی خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر قائداعظم یونیورسٹی کے فٹبال گراونڈ کو رنگا رنگ ثقافتی اسٹالز اور پینافلیکس کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ ہر اسٹال ایک منفرد ثقافت اور روایات کا عکاس تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک جہاں نوروز کا تہوار منایا جاتا ہے، ان کی تفصیل مختلف پینافلیکس کی شکل میں آویزاں کی گئی تھی۔ایرانی سفیر نے تقریب سے اپنے خطاب کا آغاز کچھ یوں کیا۔ الله تبارک کے بابرکت نام سے شروع کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں ایران و پاکستان کے دیرینہ تعلقات پر اظہار اطمینان کرتا ہوں اور اپنے تمام ایرانی ہم وطنوں اور تمام ان ملکوں کو جن میں جشن نوروز کو باقاعدہ منایا جاتا ہے اور اپنے تمام معزز مہمانان کو جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی ہے، جشن نوروز کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف ایشین سویلایزیشن، جنہوں نے اس پروگرام کو مرتب کیا ہے کا بھی بہت شکر گزار ہوں۔آپ بہتر جانتے ہیں کہ جشن نوروز ہر سال بہار کے شروع ہونے پر منایا جاتا ہے، جب موسم میں بہار کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں اور ایک نئے موسم کی ابتدا ہوتی ہے اور اس مناسبت سے جشن نوروز کے موقع پر ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کا تجدید عہد کرتے ہیں اور اسی مناسبت سے یعنی جشن نوروز میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور آپس میں صلح و دوستی کا رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ نوروز کا تہوار بہت قدیمی ہے اور یہ تہوار قبل از اسلام بھی ایران اور مختلف ملکوں میں منایا جاتا تھا اور ظہور اسلام کے بعد یہ تہوار ایک اللہ تعالٰی کی طرف سے تحفہ الہی کے طور منایا جاتا ہے۔ ہفت سین (نوروز کا دستر خوان) جس میں قرآن کریم کا موجود ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تہوار قرآن کریم اور تحفہ الہی کا مرہنون منت ہے۔آخر میں آج کے روز جو ہمارے برادران اور خواہران جن میں پاکستانی، افغانی، ترکمنستانی اور مختلف ممالک جن میں نوروز باقاعدہ منایا جاتا ہے، ان کی شرکت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور تمام مہمانان گرامی، خاص طور پر محترمہ فردوس عاشق اعوان، سفارتخانہ افغانستان کے دوئم اتاشی، نمایندہ خصوصی سفارت ترکمانستان اور محترمہ طیبہ بخاری اور تمام مہمانان گرامی جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی، ان کا نہایت شکر گزار ہوں۔ تقریب سے سابق وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی خطاب کیا۔......../169