18 مارچ 2013 - 20:30

باراک اوباما: امریکہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ ایران کے ایٹمی انرجی کے مسئلہ کو ڈپلومیٹک گفتگو کے ذریعہ حل کرے۔ اور ایرانی عوام کے لیے ایسے شرائط فراہم کرے کہ وہ دیگر ممالک مخصوصا ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تجارتی روابط برقرار کر سکیں۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے صدر جمہوریہ باراک اوباما نے گزشتہ سالوں کے برخلاف اس سال عید نوروز سے دو دن پہلے ہی ایران قوم کے نام ایک ویڈیو کیسٹ میں اپنا پیغام ارسال کرے ہوئے عید نوروز کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی۔انہوں نے اپنے اس بیان میں کہا ہے: میں گزشتہ سالوں کی طرح امریکہ کا صدر ہونے کے عنوان سے چاہتا ہوں کہ اس فرصت کو غنیمت سمجھتے ہوئے ایرانی قوم اور حکومتی عہدہ داروں سے مستقیما گفتگو کروں۔ اور جیسا کہ میں نے چار سال پہلے بھی کہا تھا کہ اگر ایران کے حکومتی عہدہ دار اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کریں تو امریکہ اور ایران کے درمیان روابطہ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اور ایران اپنے واقعی مقام پر واپس لوٹ سکتا ہے۔امریکہ کے صدر نے واضح کیا: امریکہ اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ ایران کے ایٹمی انرجی کے مسئلہ کو ڈپلومیٹک گفتگو کے ذریعہ حل کرے۔ اور ایرانی عوام کے لیے ایسے شرائط فراہم کرے کہ وہ دیگر ممالک مخصوصا ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ تجارتی روابط برقرار کر سکیں۔اوباما نے ایران جوہری پروگرام کے مسئلہ کو گفتگو کے ذریعہ حل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ایران بھی اس اختلاف کو دور کرنے اور مسئلہ کے حل کے لیے گفتگو کا راستہ انتخاب کرے گا۔ امریکہ کے صدر جمہوریہ نے اپنے بیان میں کہا: جیسا کہ آپ کے آباو اجداد نے طول تاریخ میں دنیائے علم و ہنر کو غنی کیا اس وقت بھی تمام ممالک آپ ایرانی عوام بالخصوص آپ کے جوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ جب تک ہمارا اور آپ کا رابطہ منقطع رہے گا ہم ایک ساتھ کام نہیں کر پائیں گے، نئی ایجادات نہیں کر پائیں گے۔ صلح اور کامیابی کے ساتھ مستقبل کو بنانے کی فرصت اس جشن نوروز کے موقع پر ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں ایران کے معروف شاعر حافظ کا ایک شعر پڑھتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ امید کی جاتی ہے کہ آئندہ سال میں ایران اور امریکہ آپسی اختلافات کو کم کریں گے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ امریکہ ایک نئے آغاز کے لیے اور دائمی صلح کے لیے اپنی تلاش کو جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ ایک طرف سے امریکہ ایران کو گفتگو کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کی دعوت دے رہا ہے اور دوسری طرف ایران پر عائد پابندوں کی مزید ایک سال توسیع کر رہا ہے اور ایران کے ساتھ رابطہ رکھنے والے ممالک کو مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکہ کا ایک جانب سے ایران پر دباو اور دوسری طرف سے صلح کی دعوت یقینا اس کے قول و فعل میں واضح تضاد کی عکاسی کرتا ہے جو استعماری طاقتوں کی دیرینہ خارجہ پالیسیوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242