ابنا: دارالحکومت منامہ سميت مختلف شہروں ميں بحريني اور سعودي فوجيوں نے مظاہرين پر حملہ کيا جس ميں بہت سے لوگوں کے زخمي ہونے کي خبر ہے- ہمارے نمائندے کے مطابق بحرين ميں سعودي فوجي مداخلت کي دوسري برسي کي مناسبت سے جمعرات کو پورے ميں ملک ميں پرامن مظاہرے کئے گئے –سعودي عرب نے پندرہ مارچ دوہزار گيارہ کو بحريني عوام کے جمہوري تحريک کو کچلنے کے لئے اپني فوجيں منامنہ روانہ کي تھيں-بحرين کي آل خليفہ حکومت نے جب عوامي انقلاب کے سامنے خود کو بے بس پايا تو اس نے سعودي عرب سميت اپنے پڑوس ميں واقع ديگر آمريتوں سے اپيل کي کہ وہ عوامي انقلاب کو کچلنے کے لئے اسکي مدد کريں،بحرين کے عوام گزشتہ دو برس کے دوران اپنے جائز جمہوري مطالبات سے ذرہ برابر پيچھے نہيں ہٹے ہيں بلکہ حکومت مخالف مظاہروں ميں بھرپور طريقے سے حصہ ليکر اپنے مطالبات کي تکميل پر زور اور غير ملکي فوجيوں کے انخلا کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہيں-
بحريني عوام کے خلاف آل خليفہ حکومت کي وحشيانہ پاليسيوں اور امريکہ اور مغربي ملکوں کي جانب سے اس حکومت کي حمايت پر سخت ردعمل کا اظہار کيا جارہا ہے اور بحرين کي ڈاکٹرز ايسوسي ايشن نے امريکي پاليسيوں کو بحريني عوام کے مفادات کے سراسر منافي قرار ديا ہے-
بحرين کي ڈاکٹرز ايسوسي ايشن کے صدر اسامہ المرادي نے امريکہ ميں پريس ٹي وي کے نمائندے سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرين ميں حکومت مخالفين کے خلاف شاہي حکومت کے معاندانہ اقدامات پر حکومت امريکہ نے صرف اپنے مفادات کي خاطر خاموشي اختيار کر رکھي ہے- انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ بحرين ميں امريکہ پانچويں بحري بيڑے کي موجودگي اور آل خليفہ حکومت کي جانب سے اس کے اخراجات کي تکميل کي وجہ سے امريکہ اس حکومت کو بچانے کے لئے تمام طريقے استعمال کر رہا ہے-
بحرين کے انساني حقوق مرکز کے سرکردہ رہنما يوسف المحافظہ نے بحرين کے عوام کو کچلنے کے لئے سعودي عرب کي فوجي مداخلت کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودي فوجي بھي بحرين کي شاہي حکومت کو بچانے ميں کامياب نہيں ہوسکيں گي-المحافظہ کا کہنا تھا سعودي عرب ، بحرين پر فوجي قبضہ اور انساني حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرکے بھي اس ملک کي شاہي حکومت کو نہيں بچاسکے گا- انہوں نے يہ بات زور ديکر کہي کہ بحرين کي حکومت کو خطے کي ديگر آمريتوں کے انجام سے دوچار ہونے سے پہلے ہي بحريني عوام کے حقوق کي بحالي کي سمت قدم اٹھانا چاہيے-واضح رہے کہ بحرين کي شاہي حکومت نے ملک ميں جاري انقلابي تحريک کو کچلنے کے لئے سياسي کارکنوں اور انساني حقوق کا دفاع کرنے والوں کي گرفتاري کا سلسلہ جاري رکھا ہے جن ميں بہت سے ويبلاگر بھي شامل ہيں-خبروں ميں کہا گيا ہے کہ بدھ کے روز چھے ويب لاگ نويسوں کو ملک کے بادشاہ کي مخالفت ميں سوشل نيٹ ورک استعمال کرنے کے جرم ميں گرفتار کرليا ہے -
سياسي ماہرين کے مطابق ويبلاگر کي گرفتاري انٹرنيت اور سوشل ميڈيا کے خلاف شاہي حکومت کے اقدامات کا ايک حصہ ہے-بحرين ميں فروري دوہزار گيارہ سے شاہي حکومت کے خلاف عوامي تحريک جاري ہے اور لوگ ملک سے خانداني آمريت کے خاتمے اور عوام کي منتخب کردہ جمہوري حکومت کے قيام کا مطالب کرتے چلے آرہے ہيں-
.......
/169