ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے منگل کي شام ايران کي پارليمنٹ مجلس شورائے اسلامي کے سلامتي اور خارجہ پاليسي کے کميشن کے اجلاس ميں کہا ہے کہ بعض مغربي اور علاقائي ملکوں کي مخالفتوں اور ان کي جانب سے روکاوٹيں کھڑي کئے جانے کے باوجود گيس پائپ لائن بچھانے کا آغاز دونوں ملکوں کے روابط ميں ايک اہم موڑ کي حيثيت رکھتا ہے۔انہوں نے گيس پائپ لائن کي سلامتي کو اہم قرار ديتے ہوئے کہا کہ اس پائپ لائن کي حفاظت اور سلامتي کي ذمہ داري حکومت پاکستان پر ہے۔وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے پاکستان ميں انجام پانے والي دہشتگردانہ کاروائيوں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امريکي پاکستان کے اندر مذہبي اور فرقہ وارانہ اختلافات کے پروجکٹ پر کام کررہے ہيں اور وہ شيعہ سني مسلمانوں کو ايک دوسرے سے لڑاکے ، اسلامي اتحاد کو نقصان پہنچانا اور اسلامي ملکوں کو کمزور کرنا چاہتے ہيں۔انہوں نے اسي کے ساتھ مستقبل ميں ايران کے خلاف پابنديوں ميں کمي کے امکان کے بارے ميں کہا کہ مغرب والوں کا موقف اور پابنديوں کے حالات مستقبل ميں قريب ميں پابنديوں ميں کمي کي نشاندہي کرتے ہيں۔
.....
/169