ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری آج منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اوردونوں ممالک کے صدورنے پاک ایران گیس منصوبے کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ تقریب کا انعقاد پاک ایران سرحدی علاقے چا بہار میں کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے علاوہ دونوں ممالک کے وزراء ،پاکستان کے صوبائی وزرائے اعلی اور بعض اسلامی ممالک کے سفیر شریک ہوئے ۔ ایک ارب 50 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے بنائے جانے والے اس پر وجیکٹ کے منصوبے سے پاکستان کو75کروڑ مکعب فٹ گیس ملے گی۔ ایران نے اپنی حدود سے گزرنے والی گیس پائپ لائن کا کام پہلے ہی مکمل کر لیا ہے جبکہ پاکستانی حصے کی لمبائی 750 کلومیٹر ہے جس پر کام کا آغاز کیا جائیگا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان اس منصوبے سے یومیہ پچھتر کروڑ مکعب فیٹ گیس کی درآمد کے لیے ایرانی کمپنی پاک ایران بارڈر سے پاکستان میں نواب شاہ تک سات سو اسّی کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کرے گی۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے امریکی دباؤ کے باوجود اس گیس پائپ لائن منصوبے کو پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔اس منصوبے کے تحت دس دسمبر 2014ء تک پاکستان کو ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔.............../242
10 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 398919
اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں آج تاریخی دن ہے ۔ دو دہائیوں کے انتظار کے بعد بالآخر آج ایران – پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گيا ۔