ابنا: مذکورہ تنظيم کے وفد نے بحرين کے اپنے دورے کے اختتام پر منامہ ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ جب تک آل خليفہ کي حکومت کے عہديداروں پر مقدمہ نہيں چلايا جائے گا اس وقت تک ملک ميں حقيقي اصلاحات نہيں ہوسکيں گي
عالمي اداروں کي مجرمانہ خاموشي کے درميان بحرين ميں عوامی تحريک کے خلاف شاہي حکومت کے مظالم کي ہولناک خبريں موصول ہورہي ہيں-
خبروں ميں کہا گيا ہے کہ شاہي حکومت کي نمائشي عدالت نے ملک ميں جاري جمہوري تحريک ميں حصہ لينے کے جرم ميں سات افراد کو دس سال قيد کي سزا سنائي ہے-
بحرين کي شاہي حکومت کي نمائشي کورٹ نے جن لوگوں کو قيد کي سزا سنائي ہے انہيں ملک ميں ہونے والے پرامن مظاہروں کے دوران گرفتار کيا گيا تھا- جبکہ حال ہي ميں مظاہرين کے قتل عام اور ان پر فائرنگ کرنے کے الزام ميں گرفتار کئے گئے دو سيکورٹي اہلکاروں کو بري کرديا گيا ہے-
بحرين کي وکلا برادري اور انساني حقوق کے کارکنوں نے ايک بار پھر ملک کي عدليہ کے عوام مخالف اقدامات کي بابت سخت خبردار کيا ہے-کہا جارہا ہے کہ بحرين کي عدليہ ، ملک ميں جاري عوامي تحريک کے آغاز سے آج تک قاتلو، شنکجے دينے والوں اور انساني حقوق کي خلاف ورزياں کرنے والوں کي پشت پنائي کرتي چلي آرہي ہے- اور اس نے انساني حقوق کي خلاف ورزياں کرنے والے سب ہي افراد کو بري کرديا ہے-
اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بحرين کي شاہي حکومت کے تحت کام کرنے والي عدالتيں محض نمائشي ہيں اور ايسے اداروں سے انصاف کے حصول کي توقع بے جا ہے- بلکہ عرب ملکوں کي استبدادي حکومت کے تمام عدالتي ادارے رائے عامہ کو دھوکہ دينے اور حق کو ناحق دکھانے کا کام کر رہے ہيں-
بحرين ميں ا نساني حقوق کي سنگين خلاف ورزيان ايسے وقت ميں جاري ہيں جب اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے ادارے سميت انصاف کي دھائي دينے والے تمام عالمي اداروں نے بحرين کي شاہي حکومت کے مجرمانہ اقدامات پر مکمل خاموشي اختيار کر رکھي ہے-
بحرين کي شاہي حکومت کے مجرمانہ اقدامات پر اقوام متحدہ کي خاموشي کا سلسلہ جاري رکھتے ہوئے اس عالمي ادارے کے انساني حقوق کميشن کي سربراہ ناوي پلائي نے ليبيا، شام، تيونس، مصر اور يمن جسے ملکوں ميں انساني حقوق کي صورتحال پر انتہائي تشويش کا اظہار کيا ليکن بحرين کا نام تک نہيں ليا-
حالانکہ بحرين ميں شاہي حکومت کے سرکوب گرانہ اقدامات اور مظاہرين کے خلاف شاہي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کي وحشيانہ کاروائيوں کے باوجود اس ملک ميں جاري عوامي جمہوري تحريک تيسرے سال ميں داخل ہوگئي ہے-
بہرحال شاہي حکومت کے وحشيانہ اقداقات اور انسانيت سوز کاروائيوں کے باوجود اس ميں عوامي احتجاج اور مظاہروں کا جاري رہنا اس بات کي نشاندھي کرتا ہے کہ بحريني عوام اپنے جائز، قانوني اور جمہوري مطالبات کے حصول کي تحريک سے ذرہ برابر پيچھے ہٹنے والے نہيں ہيں
.......
/169