ابنا: امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایسی سرگرمیوں سے گریز کرے جو پابندیوں کی زد میں آسکتی ہوں۔ واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پیٹرک وینٹرل کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔۔ صدر زرداری کے دورہ ایران کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے قائم مقام ترجمان پیٹرل وینٹریل نے خبردار کیا کہ پابندی کی زد میں آنے والے امور سے دور رہنا پاکستان کے مفاد میں بہتر ہے۔ آئیے سنتے ہیں معروف تجزیہ نگار زمرد نقوی اس موضوع پر کیا اظہار خیال کر رہے ہیں اس گیس پائپ لائن منصوبے پر 2012ء میں دستخط ہونا تھے مگر اس میں تاخیر ہوگئی۔ 2010ء میں پاکستان اور ایران نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایران پاکستان کو 750 ملین کیوبک فٹ (21 ملین مکعب میٹر) گیس روزانہ اور 2015ء کے وسط تک ایک ارب مکعب فٹ گیس روزانہ فراہم کرے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اسے اس گیس کی اشد ترین ضرورت ہے اور امریکی دباو کے باوجود یہ گیس معاہدہ کرے گا۔ ایران اس پائپ لائن کی اپنے حصہ کی تعمیر مکمل کرچکا ہے مگر پاکستان نے اس پر ابھی کام مکمل نہیں کیا۔ 780 کلومیٹر (490 میل) پر مشتمل اس پائپ لائن کی تعمیر پر 1.5 ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔صدر آصف زرداری نے گذشتہ روزتہران میں رھبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی تو انہوں نے صدر زرداری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مخالفت کے باوجود 7.5 بلین ڈالر کے اس گیس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھنا چاہئے۔رہبر انقلاب اسلامی نے دونوں ملتوں کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو دونوں ممالک کے روابط میں زیادہ سے زیادہ وسعت کا سبب قرار دیا اور تہران اسلام آباد کے درمیان ہمہ جانبہ روابط کی تقویت پر تاکید کی۔رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ملت پاکستان کے اتحاد کو امریکہ کے ناپاک عزائم کی ناکامی کا سبب قرار دیا، اور فرمایا کہ امریکہ پاکستان میں تفرقہ پیدا کر کے اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلۓ کوشاں ہے، لیکن واشنگٹن کے ناپاک عزائم سے پاکستانی عوام کی آگہی و بصیرت، امریکہ کی تسلط پسندی کے مقابلہ میں اس ملت کی زیادہ سے زیادہ استقامت کا باعث بنے گی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں جن ممالک نے بھی آزاد خارجہ پالیسی کے تحت عزت و آبرو سے جینے کا فیصلہ کیا ہے، کامیابیوں نے ان کے قدم چومے ہیں۔ اس سلسلے میں مثال تلاش کرنے کے لئے ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں، ایران نے مغربی طاقتوں کی تمام تر سازشوں اور عالمی پابندیوں کے باوجود ہر شعبے میں جس طرح سے ترقی کی ہے وہ سب کے لئے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر پاکستان آزاد خارجہ پالیسی کے تحت ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے دیگر بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔پاکستان کی بیمار اور کھانستی ہوئی صنعت کے لئے ایران کی گیس آکسیجن سے کم حیات بخش نہیں، لہٰذا یہ ہنگامی صورتحال ہے جس کے لئے وقت ضائع کئے بغیر گیس کی فوری فراہمی کی ضرورت ہے دیر آئے درست آئے کے مصداق اس منصوبے پر عمل در آمد کے لیے اب صدارتی سطح پر دستخط ہو رہے ہیں جو ہمارے نکتہ نظر سے خوش آئند ہے۔واحد سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ کا خیال ہے کہ دنیا بھرکی توانائی کے وسائل اس کی مرضی کے مطابق استعمال کئے جائیں ۔ امریکہ نے دنیا پر حاوی رہنے کے لیے یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ توانائی کے ذخائر خواہ کہیں بھی ہوں ان پر بالواسطہ یا بلا واسطہ امریکہ کا کنٹرول رہے۔ اس پس منظر میں ایران اورکیسپین کے علاقے میں موجود خطیر توانائی کے ذخائرکی چابی اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے کیا پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے امریکہ کے دباﺅ کے مقابلے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتا ہے یا نہیں.
.......
/169