12 اگست 2026 - 17:52
ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی، صرف 33 فیصد امریکی حمایت کرتے ہیں

اکانومسٹ/یوگاو کے تازہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کی دوسری مدتِ صدارت میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور صرف ہر تین میں سے ایک امریکی ان کی کارکردگی کی حمایت کرتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار یو ایس اے ٹوڈے نے اکانومسٹ/یوگاو کے تازہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صرف 33 فیصد امریکی شہری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔ یہ 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد یوگاو کے سروے میں ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری کی سب سے کم شرح ہے۔

سروے کے مطابق 60 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کو ’’ایماندار اور قابلِ اعتماد‘‘ نہیں سمجھتے۔ اسی طرح 65 فیصد افراد نے کہا کہ امریکا غلط سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جو جولائی کے آخر میں کیے گئے سروے کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہے۔

ٹرمپ کی عمر بھی امریکی عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ سروے میں 53 فیصد شرکا نے کہا کہ ان کے خیال میں 80 سالہ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں رہنا عمر کے لحاظ سے زیادہ ہے۔

اکانومسٹ/یوگاو کا یہ سروے 7 سے 10 اگست کے دوران 1,589 بالغ امریکی شہریوں سے کیا گیا، جس میں غلطی کا ممکنہ تناسب 3.2 فیصد زیادہ یا کم ہے۔

اس سے قبل بھی مختلف سروے ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ان کی گرتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے تاہم میڈیا کی جانب سے شائع کیے جانے والے بعض سروے مسترد کرتے ہوئے انہیں جعلی قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کی حقیقی عوامی حمایت بہترین سطح پر ہے۔

حالیہ سروے کے مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت دوسری مدتِ صدارت کے دوران اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور تقریباً ایک تہائی امریکی شہری ہی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ میں تعطل اور پٹرول کی بلند قیمتوں کو بھی ان کے لیے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تازہ سروے ٹرمپ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کیے جانے والے صدارتی سروے کے ریکارڈ میں دوسری مدتِ صدارت کے دوران سب سے کم مقبول امریکی صدور میں شمار کرتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha