اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے کانگریس کو پیش کی گئی ایک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ یمن میں انصار اللہ کے خلاف گزشتہ سال ’’راف رائیڈر‘‘ کے نام سے کیے گئے امریکی فوجی آپریشن کے دوران 153 شہری شہید اور 243 زخمی ہوئے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، پینٹاگون کی 12 صفحات پر مشتمل رپورٹ امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کو پیش کی گئی۔ یہ رپورٹ 2018 کے ایک قانون کے تحت تیار کی گئی ہے، جس کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے اعداد و شمار سالانہ بنیادوں پر جاری کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں یمن میں اپریل 2025 کے دوران پیش آنے والے تین واقعات کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ 6 اپریل 2025 کو صنعا پر امریکی حملے میں 5 شہری شہید ہوئے، جبکہ 17 اپریل کو راس عیسیٰ بندرگاہ پر کیے گئے حملے میں 80 شہری شہید ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے راس عیسیٰ بندرگاہ پر حملے کی جنگی جرم کے طور پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 28 اپریل کو صعدہ کے قریب امریکی حملے میں مزید 47 شہری شہید ہوئے۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ یمن میں شہری ہلاکتوں سے متعلق مزید 15 واقعات کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
دوسری جانب یمن ڈیٹا پروجیکٹ، جو یمن میں فوجی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والا ایک آزاد ادارہ ہے، نے امریکی حملوں میں 238 شہریوں کی ہلاکت کا تخمینہ پیش کیا ہے، جو پینٹاگون کے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
پینٹاگون کی رپورٹ میں کیریبین اور بحرالکاہل میں امریکی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کو شامل نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال منشیات کی اسمگلنگ کے شبہ میں کشتیوں کو نشانہ بنانے والے امریکی حملوں میں تقریباً 120 افراد جبکہ رواں سال کے حملوں میں مزید 95 افراد مارے گئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پینٹاگون نے امریکی فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات میں کمی کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے کے بجٹ اور افرادی قوت میں کمی کی ہے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگست نے اس سے قبل امریکی فوجیوں کو زیادہ آزادی دینے اور ’’زیادہ سے زیادہ مہلک طاقت‘‘ پر زور دینے کی بات کی تھی، جبکہ انہوں نے قانونی پابندیوں کو کم کرنے کی حمایت کی ہے۔
تاہم ہیگست نے رواں سال کے آغاز میں امریکی کانگریس کے سامنے شہریوں کے تحفظ سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج کبھی شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بناتی اور فوج کی کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو ممکنہ حد تک نقصان نہ پہنچے۔
آپ کا تبصرہ