ابنا: ہندو ستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کی جانب سے ٹریڈیونینز سے ہڑتال ختم کۓ جانے کی اپیل کے باوجود ملک بھر میں ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس ہڑتال کا آغاز کل بدھ کے دن سے کیا گيا تھا اور آج بھی پورے ملک میں اس کا سلسلہ جاری ہے۔ ہڑتال کے نتیجے میں کئی شہریوں میں بینک بند ہیں۔ بدھ کوبھی ہڑتال کے باعث کئی شہروں میں بینک بند رہے اور ٹریڈ یونینز نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے۔ کل ہڑتال کے پہلے دن پولیس اور مظاہرین کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئيں۔ جن کے دوران متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی اور ٹریڈ یونین کا ایک لیڈر نریندر سنگھ انبالہ شہر میں ہلاک ہوگیا۔ہندوستان میں ہڑتال ایسی حالت میں کی جارہی ہے کہ جب اس ملک کی حکومت پارلیمنٹ میں پبلک بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور ہندوستانی حکام کا کہنا ہے کہ پبلک بجٹ میں دس فیصد تک کمی کی جائے گي۔من موہن سنگھ حکومت کوحالیہ ایک عشرے کے دوران اقتصادی ترقی کی رفتار میں شدید ترین کمی کا سامنا ہے ۔ اس کے علاوہ آئندہ سال عام انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ من موہن سنگھ نے ٹریڈ یونینز سے ہڑتال نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ہندوستان کے مقامی ٹی وی چینلز کی رپورٹوں کے مطابق مغربی بنگال ، بہار ، کرناٹک ، کیرالا ، اترپردیش ، پنجاب اور مہاراشٹر ریاستوں میں اسکول ، کالج اور سرکاری دفاتر اور بینک بند ہیں۔ہندوستان کی وزارت خزانہ کے ایک عہدیدار نے اس ملک گیر ہڑتال کے بارے میں کہا ہے کہ نہ صرف ممبئي اور مہاراشٹر کی ریاستوں بلکہ پورے ملک میں سب بینک اور مالیاتی ادارے بند ہیں۔ہندوستان کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کی انجمن ایسوچیم [ assocham ] نے توقع ظاہر کی ہے کہ اس دو روزہ ہڑتال کے نتیجے میں ہونے والا مالی نقصان تقریبا پانچ اعشاریہ دو ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ایسوچیم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ہڑتال کا سب سے زیادہ منفی اثر ہندوستان کے اقتصادی اور تجارتی شہر ممبئی پر ہوا ہے۔ ایسوچیم کے سربراہ راج کمار دھوت نے کہا ہے کہ چھوٹے تاجروں نے بھی ہڑتال میں حصہ لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں تجارتی لین دین میں کافی کمی ہوئي ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی معیشت کو اس وقت ملکی اور عالمی کساد بازاری کا سامنا ہے اور ہندوستانی معیشت اقتصادی کساد بازاری کے منفی اثرات کو برداشت کرنے پر قادر نہیں ہے۔ایسوچیم نے ہندوستان مختلف علاقوں کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہڑتال کے سب سے زیادہ منفی اثرات بینکاری کے شعبے پر مرتب ہوئے ہیں۔
20 فروری 2013 - 20:30
News ID: 393239
ہندوستان کی گیارہ ٹریڈ یونینز ملک میں مہنگائی، بیروزگاری، چاولوں کی بڑھتی ہوئي قیمتوں اور مختلف شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے خلاف ہڑتال کر رہی ہیں۔