20 فروری 2013 - 20:30

ملک کي مالياتي پاليسيوں کےبارے ميں امريکي صدر اور کانگريس کے درميان تنازعہ بدستور جاري ہے-

ابنا:  اوباما نے اپنے ايک حاليہ بيان ميں کہا ہے کہ حکومت کے اخراجات ميں جبري کمي کے نتيجے ميں روزگار کے مواقع ختم اور عام شہريوں کے لئے عوامي خدمات معطل ہوکے رہ جائيں گي جس کے نتيجے ميں عام لوگوں کي زندگي بري طرح متاثر ہوگي-اوباما نے کانگريس کو متنبہ کرتے ہوئے اس معاملے پر نظرثاني کي اپيل کي ہے- اوباما کا کہنا تھا کہ کانگريس کو آئندہ جمعے تک سرکاري اخراجات کے بجٹ ميں ترميم کابل منظور کرنا ہوگا ورنہ حکومت کے اخراجات ميں کٹوتي کے خودکار منصوبہ پر عمل شروع ہوجائے گا- امريکہ ميں بڑے قرضوں ميں کمي کے بارے ميں مختلف منصوبے  سامنے آچکے ہيں جن ميں  ملک ميں ٹيکسوں اور ميڈيکل بيمے ميں اصلاح کا منصوبہ بھي شامل ہے-
امريکي صدر ، کانگريس  کے ارکان پر دباؤ ڈال رہے ہيں کہ وہ اخراجات ميں کمي کے خودکار منصوبے کو روکنے کے لئے کوئي راستہ تلاش کريں- سرکاري اخراجات ميں کمي کے اس خودکار منصوبے پر آئندہ دس روز ميں عملدرآمد شروع ہوجائے گا اور اس کے تحت حکومت کو عوامي سہولتوں کي مد ميں خرچ کي جانے والي رقم ميں کمي کرنا پڑے گي-
کانگريس کے ڈيموکريٹ اور ري پبلکن ارکان کے درميان بجٹ کے بارے ميں شديد اختلافات پائے جاتے ہيں-
ڈيموکريٹ ملک کے دولت مند طبقے پر ٹيکس بڑھانے کي حمايت کر رہے ہيں جبکہ ري پبلکن اس کے سخت مخالف ہيں.

.......

/169