ابنا: سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق افراد کی میتیں ہزارہ ٹاون قبرستان پہنچا دی گئیں، جہاں ان کی تدفین کے انتظامات کئے گئے ہیں، تاہم جاں بحق افراد کے کچھ لواحقین تدفین سے انکاری تھے اور مطالبہ کر رہے تھے کہ مطالبات کی منظوری تک اپنے پیاروں کی تدفین نہیں کریں گے۔ تاہم شیعہ علماء کرام نے اب انہیں میتوں کی تدفین کرنے پر آمادہ کرلیا ہے۔ لواحقین میتیں لے کر قبرستان کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
ادھر سانحہ کرانی کوئٹہ کیخلاف مجلس وحدت مسلیمین اور حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ایم ڈبلیو ایم اور شہدائے کرانی کی اپیل پر کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اپنے دھرنے ختم کر دیئے۔ سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے افراد کے وہ لواحقین جو مذاکرات کے بعد بھی کوئٹہ میں فوج کی تعیناتی تک تدفین کرنے سے انکار کر رہے تھے ان کو شیعہ علماء نے میتوں کی تدفین کرنے پر آمادہ کرلیا ہے۔ لواحقین میتیں لے کر قبرستان کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔ رات گئے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد مجلس وحدت مسلیمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور شہدائے کرانی کے لواحقین کی اپیل پر دھرنے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد لاہور، کوئٹہ، کراچی، نوابشاہ سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دھرنے ختم کرکے شرکاء اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ کراچی میں ٹاور، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی، مین شارع فیصل، ناتھا خان گوٹھ، کلفٹن، انچولی، رضویہ سوسائٹی، عائشہ منزل سمیت شہر کے مختلف پر دھرنے ختم کر دیئے گئے اور شرکاء دھرنا اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے جبکہ آج تمام شہداء کی تدفین کا عمل بھی شروع ہوگا۔
.......
/169