ابنا: گيارہ فروری کے دن بدھسٹوں کے ایک گروہ نے راخین صوبے کے علاقے قادر بیل میں ایک مسلمان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پانچ افراد پر مشتمل اس کے گھرانے کے افراد کو قتل کر دیا۔ یہ ظلم ایک ایسے وقت میں کیا گيا کہ جب اسی صوبے کے شہر منگدو کے علاقے القمریہ میں بھی کل انتہا پسند بدھسٹوں نے مسلمانوں پر حملے کیے ۔ حملہ آوروں نے ابراہیم مولوی شاکر کے گھر کو آگ لگا دی اور انہوں نے اس علاقے کے مذہبی رہنما شیخ محمد نذیر القمری کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے۔ مسلمانوں کو توقع تھی کہ میانمار کی پولیس بلوائیوں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرے گي لیکن پولیس نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پچاس مسلمانوں کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا۔میانمار کی سکیورٹی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار مسلمانوں نے بدھسٹوں کے گھروں کو آگ لگائي ہے۔ مسلمانوں پر یہ نئے الزامات ایک ایسے وقت میں لگائے جا رہے ہیں کہ جب بعض مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ انتہا پسند بدھسٹوں کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج نے مسلمان آبادی والے علاقوں میں اپنے اڈے خالی کر کے مقامی بدھسٹوں کو ہتھیار اور اسلحہ فراہم کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں پر حملے کر کے ان کے نسلی تصفیے کے منصوبے پر عمل درآمد کریں۔میانمار میں مختلف اقوام کو فوج کے دور اقتدار میں بہت سی مشکلات اور مسائل کا سامنا رہا ہے ان اقوام میں سے بھی مسلمانوں کو خاص طور پر بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑا ہے۔میانمار میں تین سین کی حکومت برسراقتدار آنے اور ان کی جانب سے ملک میں وسیع اصلاحات انجام دینے کے عزم کے اظہار کے بعد مسلمانوں نے بھی دوسری اقوام کے ساتھ مل کر اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ لیکن حکومت اور فوج نے ان کے مطالبے پر توجہ دینے کے بجائے مسلمان آبادی والے علاقوں میں نسلی جنگ شروع کرا دی اور بدھسٹوں کو مسلمانوں پر حملے کی ترغیب دلائی۔ جسے بہت سے افراد نے اس صدی کی نسل کشی قرار دیا ہے۔ اس نسل کشی میں اب تک ہزاروں افراد قتل اور جلا وطن ہو چکے ہیں مسلمانوں کے گھروں اور مساجد کو نذر آتش کر دیا گيا ہے حتی کہ مسلمان عورتوں کی بےحرمتی کی گئي ہے۔ اس وقت ہزاروں جلا وطن مسلمان میانمار اور ہمسایہ ملکوں میں عارضی کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگي گزار رہے ہیں۔بہت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ میانمار کی حکومت نہ تو مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے پر تیار ہے اور نہ ہی ان کی حفاظت کا کوئي مؤثر انتظام کر رہی ہے بلکہ اس نے بدھسٹوں کو مسلمانوں پر حملے کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم سمیت بہت سے بین الاقوامی اداروں نے میانمار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو ان کے شہری حقوق دے لیکن میانمار کی حکومت کسی کی بھی بات سننے پر تیار نہیں ہے اور وہ میانمار کے مسلمانوں کو بنگلہ دیش کے مہاجر سمجھتی ہے اور انہیں ملک سے نکالنے کے لیے کمر بستہ ہے۔لیکن مسلمانوں کا کہنا ہے کہ میانمار میں اسلام پہلی صدی ہجری میں آیا اور اس وقت میانمار کی چار سے لے کر چودہ فیصد تک آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور چونکہ وہ صدیوں سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں لہذا انہیں ایک نسلی اقلیت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اسی بنا پر اقوام متحدہ کے ایلچی نے میانمار کے مسلمان آبادی والے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد میانمار کی حکومت سے درخواست کی کہ وہ انیس سو بیاسی میں پاس کیے جانے والے شہریت کے قانون پر نظرثانی کرے۔ اس قانون میں صوبہ راخین کے مسلمانوں کو شہریت کے حق سے محروم کیا گيا ہے۔
.......
/169