7 فروری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کرنا ایران کے ایجنڈے پر نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات ملک کی بنیادی پالیسیوں میں ہی شامل ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد مقدس میں ایک کانفرنس میں جس میں امریکی دانشور بھی شریک تھے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی کی جانب سے معین کیا ہوا دائرہ کار کہ جس کے تحت امریکہ کو ایران کے تعلق سے اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لانی ہوگي اور ساٹھ برسوں کی دشمنی کی بناپر معافی مانگنی ہوگي، امریکہ سے مذاکرات کا کوئي امکان نہیں۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ مختلف ملکوں کے ساتھ تعلقات میں فروغ لانا ایران کی ہرحکومت کی خارجہ پالیسی میں ترجیح رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی امریکہ نے مشرق وسطی کے بحرانوں کےحل اور امن و استحکام کی برقراری کے لئے ایران سے مذاکرات کی درخواست کی تھی جس کا ہم نے مثبت جواب دیا تھا۔ مہمان پرست نے کہا کہ ایران نے افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے امریکہ کی مذاکرات کی درخواست قبول کی ہے اور امریکہ نے افغانستان کے بحران کو حل کرنے میں ایران کی علاقائی طاقت سے استفادہ کیا ہے لیکن اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ ایران کے تعلق سے امریکہ کے رویئے میں کسی طرح کی کوئي تبدیلی نہیں آئي۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایسے مذاکرات جو سیاسی اور اقتصادی دباؤ اور دھمکیوں کے ہمراہ ہوں وہ نیک نیتی سے عاری ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایران عظیم تہذیب وتمدن کا حامل ہے اور امریکہ اپنی دھمکیوں اور پابندیوں سے ملت ایران پر تسلط حاصل نہیں کرسکتا۔ مہمان پرست نے کہا کہ دشمنوں نے ملت ایران کو داخلی سطح پر بحرانوں کا شکار بنانے کی سازشیں تیار کی ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوگي کیونکہ ملت ایران خودکفیل ہونے اور اپنے اتحاد و اقتدار کو باقی رکھنے کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہاکہ شام کے بحران کی بہترین راہ حل ایران کا چھے نکاتی منصوبہ ہے جس پر ہمسایہ ممالک کی اکثریت متفق ہوچکی ہے۔

.......

/169