ابنا: پاکستانی پارلیمنٹ مارچ میں تحلیل کردی جائے گی اور اس کے تین ماہ کے اندر پارلیمانی انتخابات کا انعقاد عمل میں لايا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے کل رات ہونیوالے اجلاس میں مزید طے پایا گيا کہ پاکستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال کے پیش نظر عام انتخابات آئین کے مطابق ہوں اور ان کے انعقاد میں ایک دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم نے عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا جس کی نگرانی میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔
بعض خبری ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق یہ قیاس آرائی بھی کی جارہی ہے کہ عبوری حکومت کا سربراہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بنایا جائے گا۔ اس پارٹی کے سینئر رہنما بھی مشاورتوں کے ذریعے نواز شریف کے لۓ ممتاز سیاسی شخصیات کی حمایت حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔
سنہ انیس سو سینتالیس میں قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی منتخب حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی ہے۔ اس لۓ اس ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اپریل میں انتخابات کے انعقاد کی حمایت کر رہی ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب حکمران جماعت پیپلزپارٹی پر حالیہ مہینوں کے دوران بہت زیادہ سیکورٹی اور سیاسی دباؤ ڈالا گیا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ انتخابات کو ملتوی کرنے کے لۓ ڈالا گیا۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں تشدد آمیز واقعات رونما ہوئے جن میں سے کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکوں میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو دس افراد جاں بحق ہوئے ۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دوہری شہریت کے حامل ڈاکٹر طاہر القادری پانچ سال کے بعد انتخابی نظام میں اصلاح اور پاکستان میں عدل و انصاف کی برقراری کے نعرے کے ساتھ پاکستان آئے ۔ سیاسی مبصرین ان تمام واقعات کو پاکستان کی سیاسی اور سیکورٹی کی صورتحال خراب کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے ہیں۔ اس ساری مبینہ سازش کا مقصد حکومت کو انتخابات کے التواء پر مجبور کرنا تھا۔
اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر اور صحیح فیصلے کر کے تمام مراحل کو کامیابی کے ساتھ عبور کر لیا ہے۔ اور اسے طالبان کی جانب سے ملک میں خلفشار پھیلانے کی کوشش پر جمہوریت کی کامیابی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
بہرحال حکومت پاکستان کی جانب سے مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد پر تاکید کی جارہی ہے اور اس کی حمایت اپوزیشن کی جانب سے بھی کی جارہی ہے جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی جماعتیں اور عوام جمہوری عمل جاری رکھنے کے سلسلے میں پرعزم ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے درمیان طے پانے والے میثاق جمہوریت نے موجودہ مخلوط حکومت کی مدت پوری ہونےکے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے عبوری حکومت کا سربراہ نواز شریف کو بنائے جانے سے اتفاق کیا ہے۔
.......
/169