بہر حال طے یہ پایا ہے کہ ہم یہاں ایک مفصل تحقیق کرکے اپنے قارئین و صارفین کو بعض حقائق سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔آٹھ ربیع الاول 260 کو گیارہویں امام حضرت عبدالرضا امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کا دن در حقیقت محرم اور صفر کی عزاداریوں کا اختتام ہے تو نو ربیع الاول امام زمانہ حضرت م ۔ ح ۔ م ۔ د بن الحسن المہدی علیہ السلام کی امامت کا آغاز ہےامام (عج) کی عمر اس وقت پانچ سال تھی گوکہ شیعیان آل محمد (ص) کے لئے یہ موضوع کوئی تازہ موضوع نہ تھا کیونکہ آپ (عج) سے قبل امام جواد علیہ السلام سات یا آٹھ سال کی عمر میں اور امام علی النقی الہادی علیہ السلام چھ سال کی عمر میں مقام امامت پر فائز ہوئے تھے۔ اور ہاں! پیغمبر خدا حضرت عیسی علیہ السلام گہوارے میں اور حضرت یحیی بن ذکریا نو سال کی عمر میں مقام نبوت پر فائز ہوئے تھے جو درحقیقت بندگان الہی کے لئے ایک آزمائش تھی۔ جیسا کا امام رضا علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں قرآن کریم سے استناد کرکے فرمایا ہے۔دوسری جانب سے امامت کے لئے علم لدنی اور الہی دانش کی ضرورت ہے چنانچہ یہ ارادہ الہی عمر کے کسی بھی مرحلے میں ـ جب بھی اللہ ارادہ فرمائے ـ ظہور پذیر ہوسکتا ہے اور البتہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کے درمیان ان نمونوں اور مثالوں کا ذکر، شیعیان اہل بیت علیہم السلام کو پانچ سال کی عمر میں، حضرت بقیۃاللہ علیہ السلام کی امامت قبول کرنے کے لئے مہیا کرنے کے لئے تھا۔ بہرصورت یہ بذات خود حضرت امام زمانہ (عج) کے حق میں ایک الہی معجزہ ہے اور ہم شیعیان آل محمد (ص) اس عظیم واقعے کی مناسبت سے جشن مناتے ہیں کیونکہ حضرت امام مہدی (عج) حیّ و حاضر امام ہیں اور ہمارے زمانے کے امام آپ (عج) ہی ہیں اسی لئے یہ جشن ہم سب کے لئے مقدم ہے۔البتہ شیعیان آل محمد (ص) تمام ائمہ (ع) کی ولادت پر جشن مناتے ہیں اور اس لحاظ ائمہ علیہم السلام کے درمیان فرق کے قائل نہيں ہوتے۔اس لحاظ سے اس دن کی تکریم اور اس روز کا جشن ہمارے لئے ایک دینی فریضہ ہے اور اس روز آنحضرت (عج) کے وجود شریف کی سلامتی کے لئے دعا کریں اور صدقہ دیا جائے ۔۔۔ کیونکہ یہ خود درحقیقت اس امام کریم کی بیعت کے اعلان اور محبت کے اظہار کے مترادف ہے کیونکہ آپ (عج) پردہ غیب میں ہیں۔پس عیدالزہراء (س) کے عنوان سے منائے جانے والے جشن کا موضوع کیا ہے؟علماء کہتے ہیں: شیعہ دو جہتوں سے جشن مناتے ہیں اور اس کو عیدالزہراء (س) کے طور پر مناتے ہیں؛ اول یہ کہ: اس روز مہدی آل محمد (ص) نے امامت کا الہی عہدہ سنبھال لیا ہے اور وہ وہی ہیں جو اللہ کی حکومت عدل کی جلوہ گری کے وعدے کا مصداق تامّ و کامل ہیں۔ وہی جو ظلم و جور کا خاتمہ کریں گے اور مظلومین کا انتقام لیتے ہیں اور کون ہے جو اہل بیت علیہم السلام سے زیادہ مظلوم ہو جو ہر لحاظ سے مظلوم واقع ہوئے اور ان کا حق ہر لحاظ سے سلب ہوا۔ حضرت مہدی (عج) اللہ کے وعدے کو عملی جامہ پہنا کر حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا دل خوش نہیں کریں گے؛ اور پھر نو ربیع الاول عمر بن سعد کی ہلاکت کا دن ہے، وہی جس نے میدان کربلا میں عاشورا کے دن امام حسین (ع) اور خاندان رسول (ص) کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جس سے سب آگاہ ہیں۔ اس نے خاک کربلا کو خاندان رسول (ص) کے مردوں کے خون سے رنگ دیا اور سیدہ ثانی زہراء اور خاندان رسول (ص) کی خواتین اور بچوں کو اسیر کرکے کربلا سے کوفہ و شام تک بازارون میں پھرایا اور ہزاروں مظالم پیروان اہل بیت (ع) پر روا رکھے۔ نو ربیع الاول کو مختار بن ابی عبیدہ ثقفی نے عمربن سعد ملعون کو ہلاک کرڈالا اور مختار کے حکم پر اس کا سر بدن سے الگ کردیا کیا چنانچہ نو ربیع الاول اس لحاظ سے اہل بیت (ع) اور حضرت زہراء (س) کے لئے جشن و سرور کا دن ہے۔ بعض لوگ نو ربیع الاول کی رات کو جو جشن اور بعض مراسمات بپا کرتے ہیں ان کا تعلق اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کے قاتل عمر سعد کی ہلاکت سے ہے اور بعض لوگ تو اس سلسلے میں انتہا پسندی کی راہ پر چل کر خرافات کے قائل ہوئے ہیں جن کی کوئی تاریخی اور علمی بنیاد نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں ہے کہ نہ تو نو ربیع الاول کے جشن میں اور نہ ہی دوسرے کسی جشن میں افراط و تفریط کی اجازت نہیں دی گئی اور ہر وہ عمل جو شریعت سے متصادم ہو، حرام ہے اور انسان کو کسی حالت میں بھی گناہ سے معاف نہيں کیا گیا ہے۔ اور سورہ ق کی آیت 18 میں ارشاد ہوتا ہے: "کوئی بات اس کی زبان سے نہیں نکلتی مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہیں"۔ یعنی اللہ کے نگران فرشتے انسان کے ہر فعل اور ہر اقدام اور ہر بات کو ثبت کرتے ہیں اور خدا کسی کے لئے بھی استثناء کا قائل نہیں ہوا۔ اور ہاں! حکم یہ ہے کہ نہ صرف ایک افواہ یا شبہہ بلکہ حتی بعض احادیث بھی، اگر قرآن سے متصادم ہو تو اس کو دیوار سے دے مارو۔زبان کی آزادی اور سب کچھ بولنے کی اجازت کے بارے میں کہی گئی بات کے بارے میں بھی سورہ عنکبوت کی آیت 29 سے رجوع کرنا چاہئے جہاں ارشاد ہوتا ہے: "ارے تم مردوں سے نفسانی خواہش پوری کرتے ہو اور راہ زنی کرتے ہو اور اپنی مجالس میں کار بد (یعنی مزاح کی غرض سے بدزبانی) کرتے ہو تو ان کی قوم والوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا سوا اس کے کہ انہوں نے کہا لاؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو"۔ یعنی قوم لوط کی تین عادتیں تھیں جن میں لواطت، رہزنی اور بدزبانی جیسے گناہ شامل تھے۔ یعنی بدزبانی اور بری اور بھونڈی باتیں دو دوسرے بڑے گناہوں کے زمرے میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ فرائض واضح ہیں۔ مجالس جشن میں بھی اور کسی بھی موقع پر بدزبانی او سب و شتم کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جنگ صفین میں معاویہ کے سب و شتم کرنے والوں سے فرمایا: تمہیں سبّ کرنے اور گالی دینے کا حق نہيں ہے ہمیں حق حاصل ہے کہ ان کے خلاف لڑیں۔ان ایام میں بعض اعمال کا تعلق انجام دینے والوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا جواب بھی بارگاہ الہی میں وہی لوگ دیں گے اور اہل بیت (ع) کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں جس میں رضائے الہی نہیں بلکہ اللہ کا غضب اور ناراضگی کے سوا کچھ نہيں ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی اعیاد عبادت کے مواقع اور الہی فرائض کی مناسبتیں ہیں اور حبّ اہل بیت (ع) اللہ کی فرمانبرداری میں ہے اور امام باقر علیہ السلام کے فرمان کے مطابق: جس نے اللہ کی اطاعت کی وہ ہمارا حبدار ہے اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ ہمارا دشمن ہے۔واضح رہے کہ خلیفہ ثانی پر قاتلانہ حملہ ذوالحجۃالحرام میں انجام پایا تھا چنانچہ اس حوالے سے جو شبہہ افواہِ عوام پر ہے وہ غلط اور بے بنیاد ہے۔ اہل بیت (ع) کے جشن یا ایام غم میں ان کی مدح کو اہمیت دینی چاہئے اور اہل بیت (ع) کی معرفت حاصل کرنی چاہئے۔ لوگوں کو طعام دینا چاہئے۔ نہ جانے کیوں لوگوں کو طعام دینے کی سنت حسنہ کو کیوں محرم اور صفر تک محدود کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ اگر کوئی عید کے دن لوگوں کو کھانا کھلائے تو اللہ تعالی کے ہاں وہ اس شخص کی طرح ہو جس نے انبیاء عظام علیہم السلام کی میزبانی کی ہو۔ ان ایام میں صلۂ رَحِم، اپنوں، عزیزوں اور دینی برادران کے درمیان اختلافات اور کدورتوں کو ختم کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے سرور و شادمانی کا اظہار کرنا چاہئے اور یہ سرور و شادمانی، حسنات اور نیک اعمال سے بھرپور اور برائی اور گناہوں سے بالکل دور، امام زمانہ (عج) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے مترادف ہے۔عمر بن سعد بن ابی وقاص کون ہے؟امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں ابن سعد کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے پیغام بھیجا۔ اس ملاقات میں ابوالفضل العباس علیہ السلام آپ (ع) کے ساتھ تھے اور حفص بن عمر سعد اور اس کا غلام لاحق، ابن سعد کا ساتھ دے رہے تھے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ رات گئے تک مذاکرات جاری رہے لیکن معلوم نہ ہوسکا کہ مذاکرات میں فریقین نے کیا کہا اور کیا سنا۔ لیکن بعض دوسرے مؤرخین نے لکھا ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام نے فرمایا: اے ابن سعد! خدا کا خوف کرو! تم جانتے ہو کہ میں کس کا فرزند ہوں پس تم میرا ساتھ کیوں نہیں دیتے ہو؟ عمربن سعد بہانہ لایا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ یزید کی حکومت میرا گھر منہدم کرے گی۔ امام (ع) نے فرمایا: میں وہ گھر تمہارے لئے از سر نو تعمیر کرکے دونگا۔ ابن سعد نے پھر بھی بہانے کا سہارا لیا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ وہ میرے باغ اور میری زراعت پر قبضہ کریں گے۔سیدالشہداء علیہ السلام نے فرمایا: میں اس سے بہتر حجاز میں تمہیں دے دوں گا۔عمر سعد نے پھر بھی بہانہ بنایا اور کہا: مجھے خوف ہے کہ وہ میرے بیوی بچوں کو کوفہ میں قتل کردیں۔یہاں امام علیہ السلام غضبناک ہوئے اور ابن سعد پر نفرین کرکے فرمایا:مالك! ذبحك اللّه على فراشك، ولا غفر لك یوم حشرك، فواللّه انی لارجوا ان لاتاكل من بر العراق الا یسیرا.اللہ ذبح کروائے تم کو اپنے بستر پر! اور جس دن تم اٹھائے جاؤ اللہ تمہیں نہ بخشے، پس اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ تم عراق کی گندم سے ـ سوائے قلیل کے ـ نہ کھاسکوگے۔عمر بن سعد نے اپنے انجام کے خوف کو چھپاتے ہوئے کہا: گندم نہیں کھائیں گے تو جو کھائیں گے!۔ (1) ابن حجر لکھتا ہے: ایک دن عمر بن سعد نے امام حسین علیہ السلام سے عرض کیا: بعض نادان لوگ کہتے ہیں کہ میں آپ کا قاتل ہوں۔امام (ع) نے فرمایا: یہ نادان نہیں ہیں اور سچ کہہ رہے ہیں۔ (2) عمر کے باپ سعد بن ابی وقاص نے امامت ولایت کے سلسلے میں قصور کیا مگر کبھی بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے میں کوتاہی نہيں کی اور سفر حج کے دوران اپنے دو عراقی ہمراہیوں کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی فضیلت پر مبنی پانچ حدیثیں سنائیں: "حدیث برائت، حدیث ابواب، حدیث رأیت، حدیث منزلت، حدیث غدیر"۔ مکہ میں جب معاویہ کے بعض حامیوں نے امیرالمؤمنین (ع) کے حق میں گستاخی کی تو سعد بن ابی وقاص نے رو رو کر کہا: وہ فضائل جو امیرالمؤمنین (ع) کو اللہ نے عطا کئے تھے، اگر ان میں سے ایک فضیلت مجھ میں ہوتی تو بےشک میرے لئے بہتر ہوتی دنیا اور ان تمام اشیاء و موجودات سے جو اس میں ہیں۔ ابن ابی وقاص نے معاویہ کو مدینہ میں امیرالمؤمنین (ع) کی توہین کی اجازت نہ دی جیسا کہ ان ہی ایام میں عائشہ ام المؤمنین نے معاویہ کو یزید کے لئے بیعت کا مسئلہ نہیں اٹھانے دیا اور یہ دونوں معاویہ کے ہاں گردن زنی کے لائق قرار پائے اور اگرچہ آج بہت سے لوگ ام المؤمنین کے لئے بھی گریباں پھاڑتے ہيں اور معاویہ کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں لیکن معاویہ نے متعدد دیگر صحابہ کی طرح ابن ابی وقاص کو زہر دے کر اور عائشہ کو گڑھے میں گرا کر قتل کیا۔ابن سعد نے یزید کے راستے میں جہنم کا استقبال کیا لیکن سنہ 50 یا 55 ہجری میں یزید کے باپ معاویہ نے ہی ابن ابی وقاص کو زہر دے کر قتل کیا۔ اور ابن ابی وقاص نے وصیت کی کہ "مجھے اسی لباس میں دفن کیا جائے جو میں نے بدر کے دن مشرکین کے خلاف لڑتے ہوئے پہنا تھا"۔ (3) سعد بن ابی وقاص کی گیارہ بیویوں سے 36 بیٹے بیٹیاں تھیں جن میں ایک کا نام عمر تھا۔ سوال یہ ہے کہ ابن ابی وقاص نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیوں کیا اور اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وہ خود حکومت کے مدعیوں میں سے تھا۔ امیرال
20 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 383609
بچپن سے سنتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں نو ربیع الاول عید کا دن ہے اور اس کو بعض لوگ عید الزہراء سلام اللہ علیہا یا عید الشجاع کا نام بھی دیتے ہیں اور مخالفین بھی کہتے ہیں کہ اس دن شیعہ خلیفۂ دوئم کے قتل کا جشن مناتے ہیں جبکہ شیعہ علماء کا کہنا ہے کہ اس دن امام حسین علیہ السلام کے قاتل رو سیاہ کو ہلاک کیا گیا ہے دیکھئے ایک تحقیق۔