ابنا: تشویش اور خدشات کی وجہ عالمی اداروں اوران پر مسلط شیطانی طاقتوں کی وہ دوغلی اوردورخی پالیسیاں ہیں جن کےباعث دنیا کی اکثر قومیں اپنے ابتدائی ترین حقوق سے محروم ہیں۔لیکن آج بھی جبکہ شمالی افریقہ اورعرب دنیا کے مسلمان عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو جہاں ان کے تعلق سے خدشات اورتشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کے مستقبل کے تعلق سے امید کی کرنیں ظوفشانی کر تی نظر آرہی ہیں۔چنانچہ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اس سارے عمل کو نوید بخش سمجھتے ہیں اور اسے عرب اوراسلامی دنیا کی ایک بڑی اوربنیادی تبدیلی قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان تحریکوں کی دو اہم ترین خصوصیات ہیں،ایک یہ کہ عوام کا پوری طر ح سے میدان میں آجانا ہے اور دوسرے ان کا دینی ومعنوی تشخص ہے۔بادی النظر میں ان تحریکوں کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ لوگوں کے معاشی مسائل اور اقتصادی بد حالی کو قرار دیاجاتا ہے لیکن اگر ذرا گہرائی اورغور سے دیکھا جائے تو اس کی اصل وجہ کچھ اور ہےکہ جس سے عالمی میڈیا اور ذرائع ابلاغ اپنے خاص عزائم کے تحت نظریں چرا رہے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق علاقے میں ان تحریکوں کے وجود میں آنے کی بنیادی وجہ ظالم حکام کے غلط رویئے کے باعث خطے کےعوام کاوقار اور غیرت و حمیت کامجروح ہونا ہے۔ آپ فر ماتے ہیں کہ مصر میں حسنی مبارک کا طرز عمل اورخاص طورپر صیہونی حکومت کی نمایندگی میں غزہ کے سلسلے میں انتہائی مجرمانہ اقدامات ،لیبیا میں قزافی کی غلط پالیسیاں اورمغرب کی کھوکھلی دھمکیوں اورمعمولی وعدوں کے بدلے میں ملک کے ایٹمی وسائل کو امریکہ کے سپرد کردینا وغیرہ ایسے اقدامات تھے جن سے عوام کی غیرت وحمیت کو کافی ٹھیس پہونچی ہے۔دنیا جانتی ہے کہ ملت ایران کو گزشتہ تین عشروں سے امریکی سامراج اوراس کے عالمی اور علاقائی اتحادیوں کے سخت دباؤ اورپابندیوں کا سامنا ہے اوراس سلسلے میں سامراجی طاقتوں کے زیر اثر عالمی اداروں کا کردار بھی ایران کے تعلق سے نہایت ہی افسوسناک اور غلط رہا ہے۔لیکن ایرانی قوم ،حکومت اورقیادت نے متحد ہوکر ان کا مقابلہ کیا اورآج دنیا کے سامنے سر بلند ہیں۔قائد انقلاب اسلامی اسی امر پر تاکید کرتے ہوئے فر ماتے ہیں کہ امریکہ کی سر کردگی میں مغرب کی جانب سے ایران کو بھی شدید دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے لیکن ان دھمکیوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے ارادوں میں نہ صرف تزلزل پیدا نہیں ہوا بلکہ انھوں نے اپنےایٹمی ٹیکنالوجی میں ہر سال اضافہ اور ترقی کی ہے۔سامراجی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کو اپنے ناجائز مفادات کے حصول اور قو موں کی دولت و سر مایہ کے لوٹ کھسو ٹ کے لئے ایسے حاکموں کی ضرورت ہے جو بلاچوں و چرا ان کے احکامات کی تعمیل کر سکیں۔ چناچہ تیل اور گیس نیز معدنیات کےعظیم ذخائر سے مالامال اس خطے میں انھیں ایسے حکام اور بادشاہ آسانی سے دستیاب ہوگئے جو ذاتی اور خاندانی حکومت کی ضمانت کے بدلے اپنا اپنے عوام کی غیرت و حمیت کاسودا کرنے پر تیار ہوگئے۔سامراجی طا قتوں خاص طور پر امریکہ کو بھی ایسے نوکروں اورپٹھووں کی ضرورت تھی جو اسے مل گئے۔ چنانچہ اس پورے خطے پر خاندانی اور ذاتی حکومتیں قائم ہیں اور جب اس خطے میں عوامی تحریکوں نے اپنے حقوق کے لئے سر اٹھایا ہے تو جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعویداروں پر بوکھلاہٹ طاری ہوگئی جوان کے مواقف میں پوری طرح سے ظاہر اور عیاں ہے۔ قائد انقلاب اسلامی کےمطابق ڈکٹیٹروں کی حمایت امریکیوں کی دیرینہ پالیسی رہی ہے اور انھوں نے حسنی مبارک کا بھی آخری لمحے تک دفاع کیا۔ لیکن جب انھیں اس بات کا اندازہ ہوگیاکہ مبارک کی حکومت اب باقی نہیں رہ سکتی تواسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا۔قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مصر کے آمر حسنی مبارک کے سقوط کو امریکہ کی مشرق وسطی پالیسی کے لئے بہت بڑا دھچکا قرار دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ امریکہ جب بن علی اور حسنی مبارک کو بچانے کےسلسلے میں مایوس ہوگیا تو اس نے خباثت آمیز اور بچکانہ حرکتیں شروع کر دیں تاکہ تیونس اور مصر کے آمرانہ نظاموں کے اسی ڈھانچے کوقائم رکھا جاسکے۔ لیکن عوام کا قیام مسلسل جاری رہنے کی وجہ سے اس کایہ حربہ بھی ناکام ہوگیا۔ عالمی ادارے خاص طور پر اقوام متحدہ کاکر دار ہمیشہ بڑی طاقتوں کاتابع رہا ہے اور اس کاہر فیصلہ قوموں کے خلاف اورسامراجی طاقتوں کی مرضی ومنشا کےمطابق رہا ہے چنانچہ لیبیا کے بارے میں اس نے جو کردا ر ادا کیاہے وہ اقوام عالم کی نظروں میں انتہائی گھناؤنا اور مایوس کن رہا ہے۔قائد انقلاب اسلامی لیبیا کے بارے میں اقوام متحدہ کی کار کردگی پر شدید تنقید کر تےہوئے اس اس عالمی ادارے کے لئے کلنک کا ٹیکہ قرار دیا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ اقوام متحدہ دنیا کی قوموں کی مدد کر نے کےبجائے امریکہ سمیت مغربی ممالک کا آلہ کار بن کر رہ گئی ہے۔ تیونس ،مصر ،لیبیا اور سعودی عرب کی طرح بحرین کے عوام بھی اپنے ملک میں جمہویت اور آزادی کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اپنے ان ہی مطالبات کو لیکر شاہی حکومت کے خلاف تحریک شروع کی ہے اور نہایت ہی پر امن طریقے سے امریکہ نواز شاہی حکومت کی جگہ جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ چنانچہ امریکہ کی جانب سے سبز جھنڈی دکھا تے ہی سعودی عرب اورچند دیگر ملکوں نے نہایت بے دردی کے ساتھ بحرین کی عوامی تحریک کو کچل کر رکھدیا۔قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بحرین ،مصر، لیبیا اور یمن کی عوامی تحویکوں کو ایک قراردیتے ہوئے فرماتے ہیںکہ ان عوامی انقلابوں میں کوئی فرق نہیں ہے آپ نے بحرین میں امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے شیعہ سنی مسئلہ اٹھائے جانے کو علاقے کے امور میں مداخلت کے لئے بہنہ تراشنے کی کوشش سےتعبیر کیااورفرمایاکہ امریکی بحرین میں شیعہ سنی مسلئہ چھیڑ کر بحرین کی عوامی تحریک کے سلسلے میں عالمی رائے عامہ کی حمایت اور ان کی مددکا راستہ بند کرنا چاہتے ہیں ۔آپ نے امریکیوں کے اس جال میں بعض لوگوں کے گرفتار ہوجانےپر افسوس ظاہر کیااورفرمایا کہ بحرین کے مسئلے میں شیعہ سنی مسئلہ اٹھانا امریکہ اور دشمنان اسلام کی بہت بڑی خدمت کرنا ہے۔آپ نے بحرین کے مسئلے مین سعودی عرب کی مداخلت کی جانب اشارہ کر تے ہوئے فرمایا کہ امریکیوں اورعلاقےمیں ان کے مہروں کی بے شرمی کی یہ انتہا ہے کہ بحرین میں سعودی عرب کے ٹینکوں کی موجودگی کو مداخلت ماننے پر تیار نہیں ہیں لیکن بحرین کے عوام کے قتل عام پر علماء کرام اورخیرخواہ افراد کے احتجاج کو ایران کی مداخلت قرار دیتے ہیں، قائد انقلاب اسلامی نے بحرین میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت کو بہت بڑی غلطی قراردیا اورفر مایا کہ اس اقدام سے علاقے میں سعودی عرب کی حکومت کے خلاف نفرت پھیلے گی اوریقینی طور پر سعودی عرب کو سنگین قسم کے نقصانات اٹھانے پڑیں گے، آخر میں آپ نے فر مایا کہ وعدہ الہی کے مطابق اسلامی تحریکوں کو یقینی طور پر فتح حاصل ہوگي اور سامراجی طاقتوں کو شکست۔۔۔۔۔۔/110
28 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 376438
عرب اوراسلامی دنیا اس وقت جن سے حالات سے دوچار ہے اس پر کم و بیش سبھی کو تشویش لاحق ہے اور مبصرین جو تبصرے کر رہے ہیں ان میں بھی تشویش کا پہلو نمایاں ہے۔