20 دسمبر 2012 - 20:30

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کے خلاف امریکہ کی پالیسیاں آج بھی دشمنی پر مبنی ہیں۔ / شام اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں عنقریب / لاوروف: ماسکو شام کے مخالف دھڑوں کو تسلیم نہیں کرتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ خود انسانی حقوق کے سلسلے میں اچھے ریکارڈ کا حامل نہیں ہے۔ روسی صدر نے ایک پریس کانفرنس میں روس میں امریکہ کی مداخلت کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ روس امریکہ کے ہر اقدام کا شدید جواب دے گا اور امریکہ خود انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ہے۔اور اس نے اپنے شہریوں کی آزادیوں کو محدود کررکھا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ روسی پارلیمنٹ بھی امریکہ کے جواب میں دیما کوولف قانون منظور کررہی ہے جس کے تحت واشنگٹن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجائے گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے جرم میں ا مریکی حکام پر پابندیاں لگائي جائيں گي۔ صدر پوتین نے امریکہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکہ عام طور سے ملکوں کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور گذشتہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے مختلف ملکوں میں خفیہ جیلیں بنارکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خود دیگر ملکوں سے اپنے تعلقات خراب ہونے کا باعث ہے اور ہمیشہ روس کو نقصان پہنچانے کے بہانے تلاش کرتے رہتا ہے۔دریں اثنا روس نے اعلان کیا ہے کہ روسی بحریہ کی بعض یونٹس دسمبر کے آخر میں شام کے ساحلوں کے قریب شامی افواج کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کریں گی۔ روسی اہلکار نے کہا: ان مشقوں میں بحیرہ شمال، بحیرہ بالٹک اور بحیرہ اسود میں تعینات روسی بحری جہاز شریک ہونگے۔ ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو شام کے مخالف دھڑوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ لاوروف نے یورونیوز سے گفتگو میں کہا کہ شام میں جاری جنگ میں کوئي کامیاب نہیں ہوسکتا اور اس سے صرف ویرانی اور تباہی  پھیلے گي۔شام کے شمالی شہر حلب میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کرکے دہشتگردوں کے اخراج کا مطالبہ کیا ہے۔ بشکریہ از ریڈیو تہران۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110