ابنا: اطلاعات کے مطابق مذکورہ ڈرون، جو کئی دنوں سے خلیج فارس کے عمومی علاقے میں جاسوسی مشن پر تھا اور معلومات اکٹھی کررہا تھا اور یہ طیارہ ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوتے ہی ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کنٹرولنگ سسٹم کے ذریعے قبضے میں لے لیا گیا۔سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل علی فدوی نے کہا ہے کہ امریکہ کا اسکین ایگل قسم کا یہ ڈرون طیارہ، عام طور پر بڑے بحری جنگی جہازوں سے اڑایا جاتا ہے۔ اسکین ایگل قسم کا یہ ڈرون بہت چھوٹا، ہلکا اور غیر مسلح ہوتا ہے؛ کم خرچ اور بوئینگ کی ایک ذیلی کمپنی انسٹیو (Insitu) کی مصنوعات میں سے ہے اور اس کو بوئنگ اسکین ايگل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طیارہ ہلکا اور الیکٹرو آپٹیکل کیمرے سے لیس ہے جو سو کلو میٹر سے زائد فاصلے تک مواصلاتی رابطے میں رہنے کی اہلیت رکھتا ہے اور سولہ ہزار فٹ کی بلندی پر ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بیس گھنٹوں تک پرواز کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ مہینے بھی امریکہ کے پریڈیٹر ڈرون نے خلیج فارس میں ایران کے سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جنگی طیاروں کے رّد عمل کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد یہ طیارہ فرار ہونے پر مجبور ہوا تھا۔ خلیج فارس کے علاقے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نہایت حساس اور جدید ساختہ ریڈار سسٹم نے ایک بار پھر ایران کی سمندری حدودمیں داخل ہوتے ہی امریکی ڈرون کو شکار کرلیا۔ حال ہی میں ایران نے اقوام متحدہ کے نام اپنے ایک مراسلے میں امریکی ڈرونز کی جانب سے اپنی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر شکایت کرتے ہوئے اس قسم کے اقدامات کی روک تھام کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئي ثبوت نہیں ہے کہ ایران نے امریکی ڈرون طیارہ اتار لیا ہے جبکہ ایران میں اس خبر کے اعلان کے بعد دنیا کے تمام ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو وسیع پیمانے پر کوریج دی ہے۔رائٹرز نیوز ایجنسی نے فورا ہی ایرانی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا ہے کہ کہ یہ امریکی ڈرون، خلیج فارس میں جاسوسی مشن پر تھا اور ایران کا کہنا ہے کہ گذشتہ مہینے بھی ایک امریکی ڈرون نے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے سپاہ پاسداران کے جنگی طیاروں نے مار بھگایا تھا۔ بی بی سی اس واقعے کو بریکنگ نیوز کے عنوان سے پیش کیا اور کہا کہ کہ ایران نے خلیج فارس میں امریکی ڈرون طیارہ اپنے قبضے میں لیتے ہوئے اتارلیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے اس سلسلے میں ابھی کوئي رّد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اے ایف پی نے بھی قبل ازیں امریکی ڈرون طیارہ اتار لئے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کا ایک اور ڈرون اتارلیا ہے۔ امریکی سی بی ایس ٹیلیویژن نے بھی اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کا ایک اور ڈرون طیارہ اتارلینے کا دعوی کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
4 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 369722
مشرقی ایران میں مسلح افواج کی جانب سے امریکی آر-کیو170 قسم کا ڈرون طیارہ باحفاظت اتار لئے جانے کی سالگرہ کے موقع پر خلیج فارس میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بار پھر (4/ دسمبر2012) کو امریکہ کا اسکین ایگل قسم کا ڈرون طیارہ اتارلیا۔ اس خبر کو عالمی میڈیا نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔