بسم اللہ الرحمن الرحیم
مذمت کرنے کا فیشن
نذر حافی
دستِ بے ہنر میں جو چیز بھی آجائے وہ بے وقعت ہوجاتی ہے۔ بے ہنر شخص سونے کو خاک میں تبدیل کردیتا ہے جبکہ باہنر انسان خاک کو اکسیر بنا دیتاہے۔ خداوند عالم نے ہمارے ملک کو جہاں پر دیگر معدنی وسائل اور آبی ذخائر سے مالامال کیا ہے وہیں پر ایک احسان یہ بھی کیا ہے کہ اس نے ہماری ملت کو بہترین دماغوں، اعلیٰ درجے کے علمائے کرام اور بے مثال ہنرمندوں اور دانشمندوں سے بھی نوازا ہے۔ہمارے حکومتی اداروں کی نااہلی تو دیکھئے کہ وہ ان بہترین دماغوں اور برجستہ شخصیات سے کوئی ملی اور اجتماعی فائدہ اٹھانے کے بجائے ان سے جان چھڑوانے کے لئے ان کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہے ہیں۔ سڑکوں اور چوراہوں پر دانشمندوں کا بہایا جانے والا یہ خون جہاں ایک طرف ہمارے حکمرانوں کی ناہلی کی تاریخ رقم کر رہا ہے وہیں پردوسری طرف ہم سے اس ظلم کے خلاف بولنے کا تقاضا بھی کررہا ہے۔ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں،اگر منصف سے انصاف نہ ملے تو ظلم ہے، پولیس تحفظ نہ دے تو ظلم ہے، فوج اقتدار پر قبضہ جمالے تو ظلم ہے، ظالم کا راستہ نہ روکا جائے تو ظلم ہے، مسلمانوں کے درمیان نفرت انگیز مواد کی تشہیر ظلم ہے، فرقہ واریت کی سرپرستی ظلم ہے۔۔۔یہ سب ظلم ہے اور ساحر لکھنوی نے تو یہاں تک کہہ دیاہے:یہ عدل ہے کہ رہے تیغ دستِ منصف میںیہ ظلم ہے کہ قلم دستِ بے ہنر میں رہےہم سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ قلم کا دستِ بے ہنر میں رہنا تو ظلم ہے لیکن اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟اس سے بڑھ کر صاحبانِ قلمدان کی بے ہنری کیا ہوگی کہ اب ہر روز لاشیں گر رہی ہیں اور اربابِ حل و عقدلاشوں پہ کھڑے ہوکر فلمی انداز میں مذمتوں بھرے بیانات کے ڈونگرے برساتے ہیں۔فلاں عالم دین شہید ہوگئے ۔۔۔ہم مذمت کرتے ہیںفلاں انجینئر قتل ہوگیا ۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیںفلاں صحافی ہلاک کردیا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیںفلاں وکیل ناحق مارا گیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیںفلاں جگہ پر خود کش دھماکہ ہوگیا۔۔۔ ہم مذمت کرتے ہیںمذمت کرنے کا یہ فیشن اتنی تیزی سے ترقی کررہاہے کہ شاید عنقریب ہمیں اس طرح کے بیانات بھی پڑھنے کو ملیں گے:ہم یزید کے ظلم کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں ۔ہم فرعون کے کفر کی۔۔۔ مذمت کرتے ہیں۔ہم شیطان کی شیطانیوں کی ۔۔۔ مذمت کرتے ہیںاس کے علاوہ مستقبل قریب میں یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ مذمت کے ساتھ ساتھ کچھ فلمی ڈائیلاگ بھی ہمیں پڑھنے اور سننے کو ملا کریں گے۔ مثلاہم دشمنوں کو ملیامیٹ کردیں گے، ہم کسی کو دہشت گردی کی اجازت نہیں دیں گے، ہم دہشت گردوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے، ہمارا راستہ اقبال اور قائداعظم کا راستہ ہے، ہماری ملت سوئی نہیں بیدار ہے، فلاں کا خون رنگ لائے گا، ہم وہ قوم ہیں جو ۔۔۔ وغیرہ وغیرہظالم ہر روز دانشمندوں، علماء کرام، انجینروں اور ڈاکٹروں کی ٹارگٹ کلنگ کررہے ہیں، عوام کو خود کش حملوں میں اڑا رہے ہیں جبکہ میڈیا میں مذمت ۔۔۔ مذمت ۔۔۔ مذمت کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ ہر کوئی اسی فکر میں ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مذمت کرنے والوں پر سبقت لے جائے۔آج ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مذمتوں کے بوجھ تلے ڈوبے ہوئے میڈیا کو جھنجھوڑ کر حاملان اقتدار سے یہ سوال کریں کہ کیا اس بہے جانے والے خون اور ماری جانی والی علمی شخصیات کے خلاء کو مذمتوں کے بیانات سے پر کیا جاسکتا ہے ۔۔۔؟یہ ملت کب تک کاغذی بیانات اور فلمی ڈائیلاگز کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔ صاحبانِ اقتدار کو مذمتوں کے بجائے عملی اقدامات کے لئے اس طرح کے اعلانات کرنے چاہیے کہ فلاں عالم دین کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لئے ہم اتنے دینی طالب علموں کے لئے سکالر شپ کا اعلان کرتے ہیں، فلاں دانشمند کے مارے جانے سے پیدا ہونے والے خلاکو پر کرنے کے لئے ہم اتنے نئے سکولوں اور کالجز کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ فلاں وکیل کی ٹارگٹ کلنگ سے پیدا ہونے والے خلاکو پر کرنے کے لئے ہم اتنے لاکالجز اور لائبریریوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔صرف کسی کو ناحق قتل کرنا ہی ظلم نہیں، قلم دستِ بے ہنر میں رہے تو ظلم ہے اور اگر قلمدان دستِ بے ہنر میں رہے تو کیا یہ ظلم نہیں۔۔۔؟
...........
/110