اہل بیت نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینیٹ کے 15 ارکان نے ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار اور جنگ کی مدت سے متعلق مبینہ حکومتی پردہ پوشی کے خلاف ایک قانونی منصوبہ پیش کیا ہے۔
سینیٹرز کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے حالیہ جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں کو ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے عنوان سے الگ کرکے دوبارہ درجہ بندی کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد جنگ کے حقیقی انسانی نقصانات کو کم ظاہر کرنا اور حکومتی احتساب سے بچنا ہے۔
اس منصوبے کی شریک مصنف سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے جنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک غیر مقبول جنگ کے باعث عوامی دباؤ سے بچنے کے لیے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں مبینہ طور پر تحریف کر رہی ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت جاری جنگ کا نام من مانی طور پر تبدیل کرنے، سیاسی مقاصد کے لیے ہلاکتوں کے ریکارڈ میں ردوبدل کرنے اور فوجی اہلکاروں کے مراعات سے متعلق شرائط میں تبدیلی پر پابندی عائد کی جائے گی۔
اس کے علاوہ پینٹاگون کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 28 فروری 2026 سے ہلاکتوں کے تمام ریکارڈ کو سابقہ حالت میں بحال کرے۔
سینیٹرز کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف جنگ کے جانی نقصانات اور حکومتی شفافیت پر واشنگٹن میں سیاسی بحث جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ