7 نومبر 2012 - 20:30

امریکہ لیبیا میں کمانڈو گروپ تشکیل دینے کی انتھک کوشش کررہا ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کے پیچھے یقینا ایسے سامراجی اھداف پوشیدہ ہیں جن کا سمجھنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔

ابنا: شہر بنغازی میں ایک ملیشیا گروہ کے کمانڈر فتحی العبیدی نے کہا ہے کہ  امریکہ لیبیا میں ایک اسپیشل کمانڈو فورس تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے۔ فتحی العبیدی نے کہا کہ امریکہ نے اس غرض سے دس افراد پر مشتمل ایک ٹیم لیبیا بھیجی تھی جس نے بنغازی کا دورہ کرکے ملیشیاوں کے اڈے کا معائنہ کیا اور ملیشیاوں سے گفتگو بھی کی ہے۔ گرچہ امریکی حکام نے کہا ہے کہ لیبیا میں اسپیشل کمانڈو گروہ تشکیل دینے کا ھدف انتھا پسندوں سے مقابلہ کرنا ہے لیکن شواہد کچھ اور ہی بتاتے ہیں، امریکہ چاہتا ہےکہ وہ طویل مدت تک لیبیا میں فوجی موجودگي برقرار رکھ سکے۔ امریکہ ان ہی اھداف کےتحت یہ سارے مقدمات طے کررہا ہے۔ امریکہ کے بعض ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اوباما نے خفیہ طور سے کانگریس میں ایک بل پیش کیا ہے جس کی رو سے لیبیا میں انسداد دہشتگردی کی غرض سے کمانڈو فورسس بنائي جائے، اوباما نے اس کمانڈو گروہ کے لئے وزارت دفاع سے بجٹ مانگا ہے۔ کانگریس نے بڑی خاموشی سے اس بل کو منظوری دیدی اور امریکی فوج نے اس کے بعد بڑی تیزی سے لیبیا میں اپنا کام شروع کردیا، امریکہ کی اسپیشل فورس ان کمانڈوز کو ٹریننگ دے گي اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے تیار کرے گي۔ بعض امریکی حکام نے کہا ہےکہ یہ لیبیا کے لئےواشنگٹن کے جامع منصوبے کا یہ ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ایسا لگتا ہےکہ بن غازی میں امریکہ کے سیفر کی ہلاکت کی صورت میں لیبیا میں فوجی اتارنے کے لئے امریکہ کے ہاتھوں  ایک اچھا بہانہ آگيا ہے البتہ امریکہ یہ دعویے کررہا ہےکہ وہ لیبیا کو دہشتگردی اور انتہا پسندی سے بچانے کےلئے لیبیا میں اپنے فوجی تعینات کرنا چاہتا ہے۔ لیبیا میں امریکہ کی کارکردگي بالخصوص گذشتہ مہینوں میں محدود پیمانے پر لیبیا میں فوجی تعینات کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ امریکہ لیبیا سے شمالی افریقہ کے ملکوں پر کڑی نظر رکھنا چاہتا ہے۔ شمالی افریقہ میں اسلامی بیداری کی تحریک نے امریکہ کو بری طرح پریشان کردیا ہے۔ اس درمیان القاعدہ جیسے انتھا پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو بہانہ بنا کر امریکہ نے شمالی افریقہ میں اپنی فوجی موجودگي قائم کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے جبکہ القاعدہ خود امریکہ کا پروردہ دہشتگرد گروہ ہے، اسی لئے اھل نظرتجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہےکہ القاعدہ کو امریکی مفادات کے تحفط کے لئے بنایا گيا تھا۔ امریکہ نے القاعدہ کی سرگرمیوں گے بہانے مختلف علاقوں میں فوجی تعینات اور حملے بھی کئےہیں۔ امریکہ کی نظر میں اس وقت پاکستان، یمن اور لیبیا میں القاعدہ سرگرم عمل ہے لھذا اسے لگام لگانے کے لئے امریکہ کا میدان میں اترنا نہایت ضروری ہے، امریکہ اسی طرح سے اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات کا جواز پیش کرتا ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ لیبیا میں اعلی قسم کے تیل کے بے پناہ ذخائر ہیں جنہيں امریکہ نظرانداز نہیں کرسکتا، سابق ڈکٹیٹر کے خلاف انقلابی تحریک کے دوران بھی امریکہ اور نیٹونے صرف اس لئے مداخلت کی تھی کہ ان کی آنکھیں تیل کے ان ذخائر سے ہٹائے ہٹ نہیں پارہی تھی لھذا نیٹو اور امریکہ نے صرف اور صرف اپنے مفادات کے لئے نہ کہ ملت لیبیا کی محبت میں سابق ڈکٹیٹر کے خلاف فوجی کاروائياں کیں جن میں عام شہری ہی مارے گئے۔ اب جبکہ لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر اور اس کے خاندان اور دوستوں کا صفایا ہوچکا ہے ملک کے حالات معمول پر نہیں آئے ہیں اور امریکہ نے اس صورتحال سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مذموم اھداف کے حصول کے لئے لیبین ملیشیاوں کو ٹریننگ دینے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ امریکہ اس طرح لیبیا کے مسائل میں مداخلت کرنے، فوجی میں اثر ورسوخ قائم کرنے، نیز قبائيل کو اپنے تسلط میں لانے کے اھداف رکھتا ہے۔  ...../169