ابنا:آئی اے ای اے کے ساتھہ ایران کے بھرپور تعاون پر ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی مسلسل تاکید کے باوجود آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے کل اپنی ایک رپورٹ میں ایران کی جانب سے عدم تعاون کے نکتے کے تحت تنقید کی ہے ۔ اپنی اس رپورٹ میں انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ایران، صحیح طرح سے تعاون نہیں کررہا ہے اور اسی بناء پر ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی اس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ ایران میں تمام جوہری آلات، پرامن مقاصد کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں ۔ ایران پر امانو نے یہ الزام، ایسی حالت میں لگایا ہے کہ رواں سال کے دوران ایرانی حکام نے تہران اور ویانا میں آئی اے ای اے کے نمائندوں سے کئی بار گفتگو کی ہے اور تہران نے اپنے جوہری حقوق کے تحفظ کے دائرے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ساتھہ تعاون اور مذاکرات جاری رکھنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے ۔ تہران کے جوہری پرگرام کے بارے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کی حالیہ رپورٹ پر اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے محمد خزاعی نے اپنے ردّ عمل کا اظہار اور اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ تہران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں انتخابی اور غیرمنطقی روّیہ سے اس عالمی ایجنسی کی افادیت اور اس کا اقتدار خطرے سے دوچار ہوگیا ہے، کہا کہ اس جاری عمل سے این پی ٹی کا اعتبار ختم اور جوہری توانائی کے پرامن استعمال سے متعلق رکن ملکوں کے مسلمہ حق کیلئے مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ محمد خزاعی نے مشرق وسطی میں سب سے بڑے خطرے کی حیثیت سے صیہونی حکومت کے فوجی جوہری پروگرام اور اس سلسلے میں عالمی برادری کی تشویش پر ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی عدم توجہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل، ابتک این پی ٹی معاہدے میں شامل نہیں ہوا ہے پھر بھی بعض ممالک، منجملہ امریکہ ۔ برطانیہ اور فرانس، غیر روائتی طور پر اسرائیل کے جوہری پروگرام میں بھرپور تعاون کررہے ہیں ۔ اس سے قبل ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے بھی اپنے رّد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف دعوے ان خود ساختہ رپورٹوں کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں جو اسرائیل اور اس کے حامیوں نے تیار کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آئی اے ای اے ان رپورٹوں کو ایران کو دینے سے گریز بھی کررہی ہے ۔ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کو خطرناک ظاہر کرنے اور آئی اے ای اے کے ساتھہ تہران کے بھرپور تعاون کا رنگ پھیکا ظاہر کرنے کیلئے اسرائیل اور بعض بڑی طاقتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر تہران اپنے جوہری حقوق کا پابند ہے اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی رپورٹوں کی بنیاد پر تہران کی پرامن جوہری سرگرمیوں میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے اور ساتھہ ہی اس حقیقت سے کہ بعض اختلافات کے باوجود ایران اور آئی اے ای اے، مذاکرات جاری رکھے جانے پر زور دیتے رہے ہیں اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دونوں فریق، اپنے اختلافات دور کرنے اور کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے کی بدستور کوشش کررہے ہیں ۔ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی، اپنے معائنہ کاروں کے معائنوں اور رپورٹوں کی بنیاد پر یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام بالکل بے بنیاد ہے ۔ یہانتکہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کی حالیہ رپورٹ بھی، کہ جس میں ایران کے جوہری پروگرام میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہ پائجانے پر یقین کا اظہار کیا گیا ہے، مذکورہ اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کہ ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام بالکل بے بنیاد ہے تاہم ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں جو کچھہ منفی نکات پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اس ایجنسی پر ایران کے دشمن ملکوں کے شدید دباؤ کا نتیجہ ہے اور بظاہر یہ ایجنسی، اس قسم کا ڈرامہ اور دو رخی رپورٹیں پیش کرنے کا سلسلہ ختم کرنے پر قادر نہیں ہے ۔ چنانچہ مسّلمہ امر یہ ہے کہ اس طرح کے دباؤ اور جھوٹے دعوؤں سے ایران، اپنے ان جوہری حقوق سے جو بین الاقوامی طور پر تسلیم کئے گئے ہیں ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا اور تہران، اس بات کا پرزور خواہاں ہے کہ جوہری توانائی کے پرامن استعمال کیلئے یورینیم کی افزودگی کا ایرانی قوم کا حق،باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے ۔ ...../169
5 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 362706
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے محمد خزاعی نے تہران کے جوہری پرگرام کے بارے میں ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کی حالیہ رپورٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی محّرکات کا حامل تفریق آمیز اور غیر قانونی روّیہ، غلط فہمیوں کے خاتمے میں بہت زیادہ رکاوٹ بنا ہوا ہے ۔