ابنا: سعودي عرب کے مرکزي صوبے القصيم کے علاقے بريدہ ميں واقع سينٹرل جيل کے سامنے سياسي قيديوں کے اہل خانہ حکومت کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے کہ پوليس نے ان پر حملہ کرديا- آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں نے پہلے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے ان پر لاٹھي چارج کيا اور بعد ازاں گرفتارياں شروع کرديں-مظاہرين ايسے تمام سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کر رہے تھے جنہيں ايک عرصے سے بغير مقدمہ چلائے جيل ميں بند کرديا گيا ہے-حسم سميت سعودي عرب کي انساني حقوق کي متعدد تنظيموں کے مطابق اس ملک ميں حکومت مخالف نظريات بيان کرنے کے جرم ميں گرفتار کئے جانے والے سياسي کارکنوں کي تعداد تقريبا تيس ہزار کے قريب ہے- انساني حقوق کي عالمي تنظيموں کا کہنا ہے تقريبا دس ہزار افراد کو سياسي نظريات بيان کرنے کے جرم ميں گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے-سعودي عرب کي وزارت داخلہ نے تاحال اس بارے ميں کوئي اعداد و شمار جاري نہيں کئے ہيں-سعودي عرب ميں گزشتہ ڈيڑھ سال سے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور لوگ ، سياسي اصلاحات، جمہوريت کے قيام اور سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا مطالبہ کر رہے ہيں-سماجي اور مذہبي ناانصافيوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر سعودي سيکورٹي فورس کے حملوں ميں اب تک سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہوچکے ہيں....../169
3 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 362098
سعودي عرب کي سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے ملک کے مرکزي علاقے سے گيارہ مظاہرين کو گرفتار کرليا ہے-