ابنا: خطے میں اسلامی بیداری کی لہر کے ساتھ اردن کے عوام بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ میدان میں اتر پڑے اور تقریبا ڈیڑہ سال کے عرصے سے مظاہرے کر کے امان کے حکام کی پالیسیوں سے اپنی مخالفت کا مسلسل اعلان کرتے آرہے ہیں۔ان عوامی احتجاجات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور حالیہ چند دنوں میں ان میں مزید شدت آئي ہے۔ امان ، سلط ، کرک ، جرش اور معان شہروں میں مظاہرین نے اس ملک کے سیاسی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
سنہ دو ہزار گیارہ میں اردن کے عوام کی احتجاجی تحریک کو دیکھ کر لگتا تھاکہ اس کا تعلق اقتصادی اور معاشی صورتحال سے ہے لیکن اب یہ حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اخوان المسلمین سمیت اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے عوام سے تحریک کو جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے ملک میں حقیقی اصلاحات پر تاکید کی ہے۔
حالیہ دنوں میں اردن میں جو مطالبات کۓ گۓ ان میں شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سیاسی آزادی دیا جانا اور اردن کی سیاست میں فوجیوں کے اختیارات کم کیا جانا شامل تھے۔ دریں اثناء بعض سیاسی جماعتوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابی قوانین سے متعلق اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
اخوان المسلمین اور اس کی سیاسی شاخ تحریک عمل اسلامی نے کہا ہے کہ جب تک موجودہ انتخابی قوانین میں ترامیم نہیں کی جائيں گی تب تک وہ ہر الیکشن کا بائیکاٹ کرے گی۔ اردن کے موجودہ الیکشن قوانین کی مخالف سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قوانین میں ایسی ترامیم ضروری ہیں جن کے نتیجے میں عملی طور پر بادشاہ کے پاس اقتدار نہ رہے اور یہ صرف ایک اعزازی عہدہ بن کر رہ جائے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کو زیادہ اختیارات حاصل ہونے چاہئيں۔ اور وزیر اعظم کو بادشاہ منتخب نہ کرے بلکہ اس کا انتخاب اراکین پارلیمنٹ کے ووٹوں سے عمل میں لایا جائے۔
اردن کے بادشاہ عبداللہ نے ابھی تک ان مطالبات کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے ۔ اردن میں عام طور پر عوامی مطالبات کے جواب میں بادشاہ اس ملک کے وزیر اعظم کو بدل دیا کرتا ہے۔ رواں سال کے اوائل سے اب تک متعدد مرتبہ اس ملک کے وزرائے اعظم کو تبدیل کیا گيا ہے۔ حتی اس ملک کے بادشاہ نے پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کیا تاکہ قبل از وقت انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جائے۔ لیکن اردن کے عوام ان اقدامات سے قانع نہیں ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اردن میں عوام زیادہ سنجیدگي کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔ حال ہی میں امان میں مظاہرے ہوئے ہیں جن کو اردن کی تاریخ میں سب سے بڑے مظاہرے قرار دیا جارہا ہے۔ ان مظاہروں میں اردن کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کو نجات وطن کا نام دیا گيا تھا۔ ان مظاہروں کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ مظاہرین نے اصلاحات کے ساتھ ساتھ کے حکومت کی سرنگونی کا بھی مطالبہ کیا ۔ یہ ایسا نعرہ تھا جو اردن کے بادشاہ کے نزدیک ایک ریڈ لائن تھی۔
اس میں شک نہیں کہ عرب ممالک خصوصا ان ممالک میں ، کہ جہاں بادشاہتیں قائم ہیں ، ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔ ایسی صورتحال میں کیا اب بھی بادشاہ ماضی کی طرح عوامی مطالبات سے بے اعتنائی برت سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خطے میں پیدا شدہ اسلامی بیداری سے ایک نیا ماحول قائم ہو چکا ہے اور اب اگر عرب حکمرانوں نے اس سے زیادہ اس ماحول کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی تو اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ جلد یا بدیر ان کا انجام بھی خطے میں ان سے پہلے سرنگوں ہونے والے ڈکٹیٹروں جیسا ہوگا۔
.....
/169
3 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 362091
اردن میں کئي مہینوں سے عوامی احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ۔