27 اکتوبر 2012 - 20:30

بحرین کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی وسیع پیمانے پر تعیناتی اور عوام کے کچلے جانے کا سلسلہ جاری رہنے کے باعث یہ ملک ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔

ابنا: بحرین کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ڈپٹی سکرٹری جنرل  حسن مرزوق نے کہا ہے کہ منامہ حکومت نے غیر اعلانیہ طور پر اس ملک میں ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے۔ حسن مرزوق نے مزید کہا کہ جس علاقے میں بھی پرامن مظاہرے ہوتے ہیں فورا وہاں سیکورٹی فورسز اور فوجی گاڑیاں پہنچ جاتی ہیں اور پھر لوگوں کو گولیوں اور زہریلی گیسوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔حالیہ دو دنوں میں منامہ سمیت بحرین کے انیس علاقوں میں پرامن مظاہرے کۓ گۓ جن پر سیکورٹی فورسز نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں یہ تشدد آمیز مظاہروں میں تبدیل ہوگۓ ۔ بحرین میں تشدد کے ان واقعات کے علاوہ جو چیز زیادہ نمایاں ہے وہ یہ کہ اس ملک کے اکثر علاقوں کا محاصرہ کر لیا گيا ہے۔ اس وقت بحرین کے شہروں اور دیہاتوں کو جانے والے اکثر راستوں پر چیک پوسٹیں قائم کر دی گئي ہیں۔ مضافاتی علاقوں کا محاصرہ بھی آل خلیفہ کی سیکورٹی فورسز کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ تقریبا دس دنوں سے العکر کا شہر بحرین کی سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں ہے۔ اس شہر میں آمد و رفت پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ اور جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ حتی آل خلیفہ کے فوجی اس شہر کے باشندوں پر حملہ آور ہونے کے بعد لوگوں کے گھروں کی چھتوں پر تعینات ہوچکے ہیں تاکہ ہر طرح کے اقدام پر نظر رکھ سکیں۔اس میں شک نہیں کہ اس وقت بحرین کے العکر شہر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس شہر کے باشندوں سے آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے اجتماعی انتقام لۓ جانے  کا واضح مصداق ہے۔ یہ سب ایسی حالت میں ہو رہا ہے کہ جب رپورٹوں سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ منامہ حکومت کے فوجی ذلت آمیز اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں۔الوفاق ویب سائٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس ملک کے بعض فوجیوں کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدتمیزی ، ان کو زد و کوب اور زبردستی بے پردہ کرنے کی خبر دی ہے۔ الوفاق ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ اس طریقے کے استعمال سے ان فوجیوں کی اخلاقی پستی کی نشاندہی ہوتی ہے جو عوام اور ملک کی حمایت کے بجائے خوف و ہراس پھیلانے ، مظالم کے ارتکاب اور انسانی اقدار کو نظر انداز کرنے کے راستے پر گامزن ہیں۔حالیہ دنوں میں آل خلیفہ کے کارندوں نے مشتبہ افراد کے تعاقب کے بہانے غیر قانونی طور پر بحرینی عوام کے گھروں پر چھاپے مارنے کے دوران ان کی تذلیل کی ۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جو ہر ایک صاحب عقل کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ لیکن آل خلیفہ کی شاہی حکومت  سیاسی نظام میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرنے والے بحرینی عوام  کے ارادے کو متزلزل کرنے کے لۓ ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی اس پالیسی کے جواب میں بحرین کے ممتاز عالم دین عیسی قاسم نے کہا ہے کہ بحرین میں اصلاحات بہت زیادہ ضروری ہیں اور ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔  ......./169