26 اکتوبر 2012 - 20:30

خضدار – نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا خضدار پریس کلب کے صدر کا دوسرا بیٹا بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا‘ ہے۔

ابنا: پاکستان بھر میں میڈیا سے وابستہ افراد کا اظہار مذمت‘ بلوچستان میں صحافتی تنظیموں کا شدید احتجاج‘‘خضدار میں 2009کے بعد سے پریس کلب کے دو صدور اور ایک جنرل سیکرٹری سمیت اب تک 5صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے‘گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں خضدار پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالحق بلوچ اور سینئرڈاکٹر سمیت35سے زائد افراد کو قتل کیا گیا ہے‘

وزیر داخلہ رحمن ملک نے تحقیقات کا حکم دیدیا‘ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات چوہدری رشید احمد نے واقعہ کی شدید مذمت او راہل خانہ سے دلی ہمددری کا اظہار کیا ہے ۔۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے خضدار میں جمعرات کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے مقامی پریس کلب کے صدر کا ایک نوجوان بیٹے کو ہلاک جبکہ دوسرے شدید زخمی ہوگیا۔پولیس کے مطابق خضدار پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی ندیم گرگناڑی کے دونوں بیٹوں کو عید گاہ روڈ پر نشانہ بنایا گیا۔پولیس کے مطابق ندیم گرگناڑی کے 27سالہ بڑے بیٹے سراج ندیم ایک این جی او کے ساتھ نصیر آباد میں کام کرتے تھے وہ عید منانے کے لیے جمعرات کی شام خضدار آئے تھے۔ان کے چھوٹے بھائی منظور ندیم انہیں بس اڈے پر لینے گئے تھے جب وہ دونوں بس اڈے سے عید گاہ روڈ پر پہنچے تو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی آلٹو کارپراندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے سراج احمد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی شدید زخمی ہوگئے۔فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ زخمی کو علاج کے لیے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا تھا جہاں وہ جمعہ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیاپولیس کے مطابق پریس کلب کے صدر کے بیٹوں پر حملے کے بارے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ۔تاہم اس سلسلے میں ٹارگٹ کلنگ کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔خضدار کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو 2006 کے بعد شورش سے زیادہ متائثر ہیں۔اس سال 30 ستمبر کو خضدار پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبد الحق بلوچ کو قتل کیا گیا تھا۔ ان کے قتل کے بعد سے خضدار پریس کلب گزشتہ ایک ماہ سے بند ہے۔خضدار میں 2009 کے بعد سے پریس کلب کے دو صدور اور ایک جنرل سیکرٹری سمیت اب تک 5صحافیوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا یا گیاہے ۔خضدار میں امن و امان کی خراب صوتحال کی وجہ سے نہ صرف صحافی غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔ بلکہ عام شہری اورسیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن بھی غیر محفوظ ہیں۔جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران مختلف واقعات میں خضدار پریس کلب کے جنرل سیکرٹری عبدالحق بلوچ اور ایک سینئرڈاکٹر سمیت35سے زائد افراد کو قتل کیاگیا ہے۔

.....

/169