26 اکتوبر 2012 - 20:30

سوڈان کی حکومت نے خرطوم کی ایک ملٹری فیکٹری پر میزائل حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا منگل کی شب ہونے والے اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ابنا: سوڈانی حکام کے مطابق خرطوم کے جنوب میں یرموک میں ملٹری فیکٹری پر حملہ راڈار پر نظر نہ آنے والے چاراسرائیلی طیاروں نے کیا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ غاصب اسرائیل سوڈان پر حماس کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے تاہم سوڈانی حکومت نے ان الزام کی تردید کی ہے۔غاصب صیہونی  ریڈیو کے مطابق ایک دفاعی عہدیدار نے کہا کہ سوڈان خطرناک دہشت گرد ریاست ہے اور وہاں جو کچھ ہوا اسے سمجھنے میں وقت لگے گا۔دریں اثناء سوڈان میں سینکڑوں افراد نے اسرائیل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق خرطوم میں سینکڑوں افراد نے فیکٹری پر اسرائیلی فضائی حملے کیخلاف ا حتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اسرائیل اور امریکا کے خلاف نعرے درج تھے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق خرطوم میں امریکی سفارتخانے کے سامنے ہونیوالے شدید عوامی احتجاج کے پیش نظر امریکی حکومت نے اپنا سفارتخانہ نامعلوم مدت تک کے لئے بند کردیا قابل ذکر ہے کہ صیہونی حکومت کے جنگي طیاروں نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے مضافات میں واقع حال ہی میں ہتھیار بنانے کے ایک کارخانے پر ایسی حالت میں حملہ کیا تھا کہ اس کارخانے کی سرگرمیاں خفیہ نہیں تھیں اور یہاں غیرروایتی ہتھیار تیار نہیں ہو ر ہے تھے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت نے خرطوم میں اسلحے کے کارخانے پر ہوائي حملہ امریکہ کی مکمل ہم آہنگي سے انجام دیا ہے۔

بر اعظم افریقہ کا سب سے بڑا اور تیل گیس اور معدنی ذخائر سے مالامال ملک سوڈان گذشتہ تین عشروں سے شدید سیاسی بحران کا شکار ہے ۔ مغرب تجزیہ نگار ایک عرصے سے سوڈان کو ناکام ریاست قرار دے رہے ہیں دوسری طرف امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت نے بھی اس پر لالچی نظریں گاڑھی ہوئی  ہیں کیونکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سوڈان تیل اور دیگر معدنیات کے ذخائر کے حوالے سے ایران اور دوسرے عرب ملکوں سے کم نہیں ۔

عالمی  تجزیہ کاروں کی نگاہ میں یہ ملک خطے ہی کی نہیں دنیا کی ایک اہم سیاسی و اقتصادی قوت اور  افریقہ میں احیائے اسلام کا مرکز بننے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے ۔اس ملک کے رہنے والے مسلمانوں کی اکثریت اپنے دین سے گہری اور شعوری وابستگی رکھتی ہے ۔ مہدی سوڈانی ، حسن البنا اور تصوف کے مختلف سلسلوں کے گہرے اثرات یہاں کے لوگوں پر ہیں ۔

یہ  بات طے شدہ ہے کہ اگر حکمران طاقتیں اپنی قوم کو اس کے بنیادی حقوق نہیں دیتیں ، سیاسی عمل میں مفاہمت جگہ نہیں پاتی اور مفادات کے  لئے خانہ جنگیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اسلامی دنیا اور عالم عرب کے کسی بھی ملک میں دشمن کو مداخلت کا کوئی نہ کوئی بہانہ مل جاتا ہے ۔ اور مغرب کی استعماری طاقتیں اس ملک کی کمزوریوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں ۔

سوڈان میں ایک فیکٹری پر حالیہ حملہ امریکہ یا صیہونی حکومت کی پہلی کاروائی نہیں ہے اس سے پہلے بیس اگست 1998 میں بھی صدر کلنٹن کے دور حکومت میں سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب الشفا نامی ایک دواساز فیکٹری پر کروز میزائل داغے گئے تھے جس کے نتیجے میں فیکٹری تباہ ہوگئی ہے ۔

بہرحال حقیقت یہ ہے کہ تیل کی مغربی کمپنیاں سوڈان کے تیل تک رسائی میں عموما" ناکام رہی ہیں جس نے سوڈان  کی پیٹروکیمکل کی صنعت میں چین کو بھاری سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے ہیں ۔

آج چین سوڈان کا دو تہائی یا اس سے بھی زيادہ تیل خریدتا ہے اور یہی چیز اس وقت امریکہ اور اسکے حواریوں کے لئے ایک مشکل بنی ہوئي ہے بہرحال حالیہ حملے کو صرف دہشت گردی اور دہشت گردوں کی موجودگي جیسے بہانوں کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب امریکہ کا پرانا اور گھسا پٹا بہانہ ہے سوڈان پر حالیہ حملے کو بھی اسلام دشمنی، پیٹروکیمکل سیاست اور چین امریکہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔.......

/169