25 اکتوبر 2012 - 20:30

فارسی ، رومی ،عربی اور ترکی زبان کے چار فقیرایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ایک شخص کا وہاں سے گذر ہوا اور اس نے انھیں ایک درہم دیا تاکہ وہ کچھ کھانے پینے کی چیز خرید کر کھالیں۔ ان کےدرمیان اس بات پر جگھڑا ہونے لگا کہ کیا چیز خریدی جائے اور آہستہ آہستہ ان کے درمیان اختلاف بڑھنے لگا ایسے میں وہاں سے ایک عقلمند شخص گذر رہا تھا جو چاروں زبانیں جانتا تھا۔ جب ا س نے ان چاروں فقیروں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا تو ان کےقریب گیا اور انھیں سمجھابجھا کر خاموش کردیا اور ان سے کہا کہ تم اپنا ایک در ہم مجھے دیدو تاکہ میں چاروں افراد کی خواہشات کو پوری کردوں۔ اس کے بعد وہ ان کے ساتھ ایک پھل والے کی دوکان پرگیا اور ان سے کہاکہ تم لوگ خاموش رہنا تاکہ میں تمہارے لئے کچھ خرید سکوں اس عقلمند شخص نے ایک درہم کا پھل خریدا اور ان کے درمیان تقسیم کردیا۔ انھوں نے جب پھل کو دیکھا تو خوش ہوگئے اور اس عقلمند شخص کا شکریہ ادا کیا اور انھوں نے اپنی اپنی زبان میں کہا کہ یہ وہی چیز ہے جسے ہم چاہتے تھے اور وہ تھا انگور جس کا ہر ایک کی زبان میں مختلف نام تھےلیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ چاروں الفاظ کے ایک ہی معنی ہیں۔

ابنا: ایران کے معروف شاعرمولوی  مثنوی میں  اس داستان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ  مسلمانوں کے درمیان بھی اسی طرح کا ایک قصہ  ہے، سارے مسلمان ایک خدا ایک پیغمبر ایک کتاب اور ایک ہی قبلہ  کو مانتے ہیں اور ان کے تمام فروعات یعنی نماز ، روزہ، حج اور دیگر دینی فروعات ایک ہیں لیکن عدم شناخت اورعدم آگہی  اوربے ہودہ خیالات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ہیں اورہر ایک خود کو حقیقی مسلمان جانتا ہے ایسی صورت میں ان کے دشمن  جو اپنے مفادات و طاقت کو مسلمانوں کےاختلاف میں دیکھتے ہیں  وہ ان کے درمیان فرقہ واریت پھیلا کر اور انھیں مختلف گروہوں میں بانٹ کرمزے اڑاتے ہیں اور  بعض اوقات  وہ ایک فرقہ کی جانب سے دوسرے فرقے پر بے بنیاد الزامات لگاکر انھیں آپس میں لڑاتے رہتے ہیں۔نیزبعض افراد شیعوں کی طرفداری یاسنیوں  کے رہنماؤں کی  تعریف کر کے دونوں مذاہب  کےما   ننےوالوں کو ایک دوسرے سے  بد ظن کر دیتے ہیں۔ چنانچہ  عالم اسلام کے مفکرین  اس طرح کے بے بنیاد اور بے ہودہ  اختلافات کو درک  کرنے کے بعد  کئی برسوں سے  مسلمانوں کے دلوں کو    آپس میں  نزدیک کر نے کے لئے مسلسل جد و جہد اور کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مجاہد بزرگ سید محی الدین قلیبی تیونسی کہتے ہیں کہ  وہ مسلمان  جو اپنے دینی بھائی کو محبت و دوستی کی دعوت دیتا ہے اوراسے وعظ و نصیحت کر تا ہے اس کی وجہ یہ ہے  کہ اس کے دل میں اس کی محبت   پائی جاتی ہے یہ  محبت  موجب بنتی ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند  کرتاہے   اسے  اپنے دوست کے لئے بھی پسند کرتا ہے تاکہ وہ راہ راست پر چل سکے۔۔چنانچہ نصیحت کا لازمہ محبت اورمہربانی ہے نہ کہ  دشمنی و تعصب ۔ یہ آداب الہی  ہے کہ ارشاد ہوتا ہے کہ لوگوں کو حکمت آمیز اورنیک وعظ ونصیحت کے ذریعہ اپنے پرور دگار کی دعوت دو۔ جنگوں اور اختلافات کی اصل وجہ ان آداب الہی کی مراعات نہ کرنا ہے ۔مسلمان اگر ان آداب الہی کا خاص خیال رکھیں  تو ان کے درمیان کبھی بھی اختلاف اور جھگڑا نہیں ہوسکتا ہے۔ عالم اسلام  کے درمیان ہمدلی وہمفکری کو تقویت دینے کی غرض سے گزشتہ ہفتے تہران میں وحدت اسلامی کی پچیسویں بین الاقوامی  کانفرس منعقد ہوئی ۔ جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر ثقافت و ارشاد اسلامی سیدمحمد حسینی  نے مسلمانوں  کے درمیان باہمی ہمدلی و انسجام کے بارے میں ایران کے آ يئن کی طرف اشارہ کر تے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی وضاحت کی اور کہاکہ ایران کے آیئن کی گیارہویں شق میں آیا ہےکہ اس آیہ کریمہ ؛ان ھذہ امتکم امۃ واحدہ وانا ربکم فاعبدون؛ کے حکم  کے مطابق سارے مسلمان ایک امت  ہیں اورحکومت جمہوریہ اسلامی ایران کی ذمہ داری ہے کہ اپنی کلی پالیسیوں کو امت اسلامی کے اتحادکے مطابق   قرار دے اور اس پر عمل درامد کے لئےکوشش کرے تاکہ عالم اسلام کی سیاسی ،اقتصادی، اورثقافتی میدانوں میں اتحاد پیدا ہوسکے۔ اس وقت مصلحین کی نظر میں عالم اسلام میں سیاسی اورایمانی اتحاد کی شدید ضرورت ہے خاص طورپر خدا کے لطف و کرم  سے  گزشتہ برس کے اوائل سے  مسلمانوں  کی بیدار ی کے نتیجہ میں  اب تک چار ڈکٹیٹر  حاکم جو بیرونی طاقتو ں سے وابستہ تھے سرنگوں ہوچکے ہیں اور امت اسلامی کےدرمیان اتحاد کی راہ میں موجود کئی رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں  ۔درحقیقت شیعہ و سنی مجاہدین اور مفکرین  اسلام  نے گزشتہ تین عشروں میں جہاد و بیداری کاجوبیج بویا تھا وہ آج علماء  کی تدریجی  زحمتوں کے نتیجہ میں  امت واحدہ کی تشکیل کی  صورت میں  ابھر کر سامنے  آیا  ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ  حزب اللہ لبنان، جہاد اسلامی فلسطین،مصر، تیونس اوربحرین کے  شیعہ سنی شہدا کے  خون آپس میں اس طرح سے  مل گئے ہیں کہ کو ئی بھی  انھیں تشخیص نہیں دے سکتا۔  تقریب مذاہب اسلامی  کےعالمی ادار ے نے علماء اور دانشوروں کے درمیان اتحاد و ہم فکری پیدا کرنے  کے لئے  اب تک بہت   سےاہم اقدامات انجام دیے ہیں۔ اور اے سلسلےمیں  اب تک ساڑھے چار سو کتابیں بھی شائع کرچکا ہے ۔ وحدت اسلامی کانفرنس میں  اسلامی ممالک  کی  ممتاز شخصیات ، وزرا ،علماء، یونیورسٹیوں کے اساتذہ اورملکی اورغیر ملکی علمی اورثقافتی مراکز کے  اہم  اور فعال افراد شریک ہو تے ہیں اور اب تک  ان کانفرنسوں میں   عالم اسلام کو در پیش اہم مسائل کا جائزہ لیا چکا ہے۔ جس کے  نتیجہ میں  اسلامی بیداری سے متعلق  اہم  مسائل کو تقویت ملی ہے اور علماء نے فعال کردار ادا کیا ہے اسلامی مراکز اور ادارے مضبوط ہوئے ہیں ،اسلامی استقامت کی حمایت ہوئی ہے  اور  اسلامی مسائل کے بارے میں  لوگوں کی معلومات میں اضافہ ہوا ہے اور اصلاح پسندوں اور نئےنظریات کے حامل افراد کے درمیان زندگی کے تمام مسائل میں ایک طرح کا توازن قائم ہوا ہے۔  آیسسسکو اسلامی تعلیم و تہزیب  کےسربراہ عبد التویجری نے وحدت اسلامی کانفرنس  سے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے مسلمان رہنماؤں  کی ذمہ داری ہے کہ   وہ اپنے درمیان  اتحاد  قائم کریں۔ انھوں نے مسلمانوں سے  کہا ہے کہ  وہ  تعلیم وتہذیب کے  ادارے کی تجاویز اور منصوبوں میں شرکت کریں اور ان پروگراموں میں شریک ہوکر  اسلامی اتحاد کے فروغ کے لئے  مدد کریں شام  کے مفتی اعظم احمدابدر الدین حسون نے  بین الاقوامی  اسلامی وحدت  کانفرنس  سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہم لوگ شعیہ سنی ہو نے سے پہلے  مسلمان ہیں لہذا سزاوار ہے ہم لوگ  اسلامی اتحاد کو مضبوط  بنانے کے لئے کوشش کریں  پیغمبر اسلام اور امام جعفر صادق علیہما السلام  کی ولادت باسعادت کا دن ایک ہے اورامام جعفر صادق علیہ السلام جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے جانشین تھےاورانھوں نے  بہت سے   شیعہ سنی  شاگردوں کو تربیت دی ۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی  ان کے شاگر د تھے۔لبنان  کی تحریک امل   کی سر براہی کمیٹی  کے رکن اورنبیہ بری کے نمایندے خلیل حمدان  نے بھی  بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت  قدس شریف کے علاقے کو یہودی کالونی میں تبدیل کرنے کوشش کررہا ہے اور نسل پرستانہ  اقدامات کے ذریعہ فلسطین کے تشخص کو مٹانا چاہتا ہے ۔اسرائیل امام خمینی کے قول کے مطابق  ایک سرطانی پھوڑا ہے اور امام موسی صدر کے مطابق شر مطلق ہے لہذا اس عنکبوتی گھر  کو مسلمانوں کے اتحاد کے ذریعہ منہدم اور خراب کر دینا چاہیے۔۔ پچیسویں بین الاقوامی  اسلامی وحدت کانفرنس اٹھارہ  شقوں پر مبنی بیان کے ساتھ اختتام پذیر  ہوئی۔  اس بیان میں  اسلامی اتحاد  کے تحقق کے لئے  ہم صدا اور ہم فکر ی کے اعلان کے ساتھ  یاد دہانی کرائی گئی کہ قران کریم اور سنت نبوی  نے  امت اسلامی کے لئے  انسانی اقدار پر مبنی  ایک عظیم  تہذیب عطا کی ہے   اور اس روش  اور ماحول کے تحت متعدد  مذاہب نے  اسلامی اصول و احکام کے پرتو میں  مشکلات کے حل کے لئے مختف  راہ حل پیش کئے۔ بیان  کی بارہویں شق میں منجملہ  مجمع تقریب مذاہب  اسلامی کے فروغ  کے لئے کوشش کے علاوہ  بہت سی تجاویز پیش کی گئیں۔ مجمع تقریب کے بجٹ میں اس کی ضرویات کے مطابق  اضافہ علاقائی  طور پر    اس ادارے کے پروگراموں پر عمل درامد ور  دشمنوں کی معاندانہ  حرکتوں کو رصد کر نے کے لئے مراکز  قائم کرنے کی کوششوں پر تاکید کی گئی اس کے علاوہ  مختف زبانوں میں مختلف جریدے  شائع کرنے پر بھی تاکید کی گئی اور صوتی اور تصویری ذرائع ابلاغ  کی سر گرمیوں میں فروغ اورمختلف  معاشروں کے پیش نظر مختلف پروگرام پیش کر نے پر بھی تاکید کی  گئی۔ اسکے  علاوہ  کتاب سال کے انتخاب کے ساتویں دور کی تقریب بھی منعقد ہوئی اور ان منادیان حق   کی قدر دانی کی گئی جنھوں  نے اپنے قلم سے    مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کر نے کے لئے بہت زیادہ  جد و جہد اور کوشش کی ہے۔ اس تقریب میں  آیت اللہ محمد مہدی آصفی کی  کتاب  اسلام کے خلاف محاذ آرائی اور عصری چیلنج اور مرحوم عبد الحریم السائح کی کتاب ھذا ھوالاسلام،  کو سال کی بہترین  کتاب  قرار دیا گیا اور اسی طرح  بشری جریدے کو  سال کا بہترین  جریدا اور ٹی وی چینل میں  الوحدہ چینل کو ذرائع ابلاغ میں بہترین چینل قرار دیاگیا۔ اس کے علاوہ   مجمع تقریب اسلامی  کےنائب سر براہ ڈاکٹر تبرائیان اور افغانستان کے سابق صدر اور مجمع تقریب مذاہب  اسلامی  کے رکن استاد شہید برہان الدین  ربانی  کی مذاہب اسلامی  کو آپس میں قریب کرنے والی اہم شخصیات کے عنوان سے قدر دانی کی گئی۔..... /169