20 اکتوبر 2012 - 20:30

پاکستانی فوج نےاعلان کیا ہے کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں چار سال بعد رات کو لگائے جانے والا کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔

ابنا: اس بات کا اعلان سیکٹر کمانڈر شمالی بریگیڈیئر حیدر علی نے جمعہ کے روز خار میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔یاد رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں سنہ 2008 کرفیو کا نفاذ اس وقت کیا گیا تھا جب فوج نے آپریشن شیر دل کا آغاز کیا۔سیکٹر کمانڈر نے سکاو¿ٹس فورٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی میں حکومتی عملداری قائم کردی گئی ہے اور شدت پسندوں کو ایجنسی کے ان علاقوں سے بھی نکال دیا گیا ہے جو ان کے گڑھ تصور کیے جاتے تھے۔بریگیڈیئر حیدر علی نے کہا کہ فوج کے خیال میں شدت پسندوں کے خاتمے کے بعد کرفیو کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا فوج نے یہ فیصلہ ایجنسی کے لوگوں کی بہتری کے مدِ نظر لیا ہے اور اب لوگ آزادانہ طور پر گھوم پھر سکتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی چیک پوسٹس قائم رہیں گی لیکن ان پر چیکنگ کو نرم کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد اب محفوظ ہیں اور ان کو ایجنسی کے اندر سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔سرحد پار حملوں کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ایجنسی کی افغانستان سرحد کے ساتھ علاقوں میں نئی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں اور اس کے علاوہ قوم امن لشکر بھی قائم کیے ہیں۔بریگیڈیئر حیدر علی نے کہا کہ مقامی رضا کار سرحد کے قریب شدت پسندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مکانوں، گاوں اور قصبوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبائلی لوگوں کی ہے۔سیکٹر کمانڈر نے کہا کہ مقامی افراد کو ایسے عناصر کی نشاندہی کرنی ہو گی جو شدت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں۔

.....

/169