ابنا: پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے اس حوالے سے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے کسی مجاز شخص کی جانب سے تصدیقی بیان کی عدم موجودگی میں سارا معاملہ مشکوک ہو جاتا ہے، احسان ا۔۔۔ احسان کو تحریک طالبان کا ترجمان تسلیم کر کے ملالہ پر حملہ کی ذمہ داری سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیاہے – اس بیان میں پاکستانی اور عالمی میڈیا کو بھی ملالہ کی بھرپور کوریج پر تنقید کا نشانہ بناکر القاعدہ نے کہا ہے کہ سوات آپریشن کے دوران ایک یہودی فلمساز ایڈم بی ایلک ملالہ کے گھر قیام پذیر رہا جبکہ ملالہ اور اس کا باپ امریکی سفارتکار اور امریکی وزیر خارجہ اور فوجی افسروں سے بھی ملے اور انہیں علاقے کو طالبان سے پاک کرنے کی ترغیب دی- القاعدہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ملالہ پر حملے کیخلاف ردعمل فطری ہے تاہم حملے کے پیچھے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے بعض مذہبی رہنماؤں نے بھی اس واقعے پر کئی سوالات اٹھا کر ملالہ پر حملے کو گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کو متاثر کرنے کےلئے امریکی سازش قرار دیا ہے –
.....
/169