16 اکتوبر 2012 - 20:30

بحرین میں حکومت مخالف عوامی تحریک میں تیزی آنے کے بعد آل خلیفہ نے اپنےتشدد میں بھی شدت پیدا کردی ہے۔ محمد المسقطی اس ملک میں انسانی حقوق کے ایک سنئیر کارکن ہیں جن کو حال ہی میں بحرین کی حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ اگرچہ منامہ کے حکام کی جانب سے ان کا جرم بیان نہیں کیا گيا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کو ان کی تقریر کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے دو دن قبل جنیوا میں بحرین کی ظالم حکومت کے خلاف تقریر کی تھی اور اس تقریر کے ایک ہی دن بعد ان کو گرفتار کر لیا گیا ۔

ابنا: فروری سنہ دو ہزار گیارہ سے بحرین میں عوامی اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوا تو منامہ کی حکومت نے عوامی مطالبات کا جواب تشدد  کے ساتھ دینا شروع کردیا۔ بحرین کی پارلیمنٹ کے سابق رکن عبدالمجید نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال فروری کے مہینے سے اب تک بحرین میں تقریبا چار ہزار پانچ سو افراد کو منامہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور اپنے نظریات کا اظہار کرنے کے جرم میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جن میں سے ایک ہزار چار سو افراد ابھی تک جیلوں میں قید ہیں۔یہ گرفتاریاں ایسی حالت میں عمل میں لائي جارہی ہیں کہ جب بحرین کے دوسرے طبقات کی بہ نسبت انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والے افراد اور مخالف جماعتوں کے رہنما آل خلیفہ کی سیکورٹی فورسز کے زیادہ نشانے پر ہیں۔ عبدالھادی خواجہ ، نبیل رجب ، ہشام صباغ اور منصور جمری کا شمار بحرین کے ان دسیوں سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے جن کو عوام کا ساتھ دینے اور پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گيا ہے۔بعض رپورٹوں سے اس بات کی نشاندہی ہوتی  ہے کہ حالیہ ایک سال کے دوران اسّی سے زیادہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بھیج دیا گيا ہے۔بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے اصلاحات اور عدل و انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے سلسلے میں تشدد کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے ۔ اس پالیسی سے نہ صرف آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی ماہیت کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ اس سے عوامی تحریک میں بھی وسعت آتی جارہی ہے اور شائد ہی کوئي دن ایسا گزرتا ہے جب بحرین کے شہروں اور دیہاتوں میں حکومت مخالف مظاہرے نہ ہوتے ہوں۔ شروع شروع میں بحرین کے عوام کے مطالبات صرف سیاسی نظام میں اصلاحات لانے تک محدود تھے اور پھر چند مہینے بھی نہیں گزرے  تھے کہ انھوں نے آل خلیفہ کی حکومت کی سرنگونی کا نعرہ لگا دیا۔ آل خلیفہ کی شاہی حکومت عوام کے درمیان اختلافات ڈالنے کے لۓ اس ملک میں چلنے والی عوامی تحریک کو شیعوں سے منسوب کر رہی ہے حالانکہ بحرین کے سارے عوام اس ملک کے حکام کی کارکردگی کے پیش نظر اپنے حقوق کی بازیابی کے خواہاں ہیں ۔ ان حقوق کا تعلق دین ، مذہب اور عقائد کے ساتھ نہیں ہے بلکہ یہ ایسے حقوق ہیں بلاامتیاز مذہب  و مسلک جن کا ہر فرد قائل ہے۔ لیکن خطے کے عرب بادشاہوں نے انسانی حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے اپنے اپنے ملک میں گھٹن کا ماحول قائم کر رکھا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران شائد ہی کوئي ایسا عرب ملک تھا جس میں بہار عربی کی نسیم نہ چلی ہو۔ یہ صورتحال اسلامی بیداری کی تحریک کی بالیدگی کی علامت اور ان عرب حکمرانوں کے لۓ خطرے کی گھنٹی ہے جو اپنی موروثی حکومت اور اپنے ملک کا انتظام گھٹن اور تشدد کی پالیسی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔

.......

/169