1 اکتوبر 2012 - 20:30

افغانستان کی جانب سے پاکستان پر گولہ باری کے الزامات اور اس موضوع پر دونوں ممالک کےتعلقات میں کشیدگی کے بعد افغانستان نے ہزاروں فوجیوں کو پاکستانی سرحدوں کے قریب تعینات کردیا ہے –

ابنا: افغان میڈیا رپورٹ کے مطابق افغان حکام کی جانب سے سرحد پار سے گولہ باری کے الزامات کے بعد پاک - افغان سرحد پر غیر معمولی فوجی نقل و حرکت شروع کر دی گئی ہے اور ہزاروں فوجی ننگرہار صوبہ کے اضلاع لال پور اور گوستہ میں تعینات کئے گئے ہیں –ادھر صوبہ ننگرہار کے گورنر گل آغا شیرزای نے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے گولہ باری کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو افغان فورسز بھی جوابی اقدامات اٹھائیں گی۔ گل آغا شیرزای کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی گولہ باری سے افغان حکام کو سخت تشویش ہے اور جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ کو بھی آگاہ کیا ہے-ادھر افغانستان کے وزیر دفاع جنرل بسم اللہ محمدی اور وزیر داخلہ مجتبیٰ پتنگ نے صوبہ ننگرہار کے پاکستانی سرحد سے ملحقہ ضلع غوشتہ کا دورہ کرکے مقامی لوگوں سے پاکستان کی جانب سے افغانستان کی حدود میں گولہ باری کے بارے میں تبادلہ خیال کیاہے ۔ اس موقع پر افغان وزیر دفاع نے کہاہے  کہ ہم پڑوسی ملک کے ساتھ اس معاملے کو سفارتی انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں۔دریں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ مل کر افغان سرحد پر ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی نقل وحرکت شمالی وزیر ستان میں فوجی آپریشن کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے تاکہ شدت پسندوں کے اس طرف بھاگنے کا راستہ بند ہوجائے

.....

/169