ابنا: صدر مملکت نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم ماضی کی مانند عالمی سوچ رکھتی ہے اور دنیا میں قیام امن اور ترقی و پیشرفت کے لیے کی جانے والی ہر قسم کی کوششوں کا کہ جو البتہ صرف ہمفکری، تعاون اور مشترکہ انتظام سے ہی میسر ہیں، خیرمقدم کیا ہے اور ان کو اہم سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آزادی بیان کے جھوٹے دعووں اور انسانی مقدسات اور انبیائے الہی کہ جو پاک اور مہربان ترین انسان اور انسانیت کے لیے خدا کا عظیم تحفہ ہیں، کی توہین کا موقع دینے کے بجائے عالمی صیہونزم کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور اقدامات پر تنقید کا حق دیا جاتا تو آزاد اور خودمختار عالمی میڈیا حقائق کو نشر اور شائع کرتا۔صدر مملکت نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چند حکومتوں کے زیراثر نہ ہوتی تو اقوام متحدہ منصفانہ طور پر کام کر سکتی تھی، اس بات پر زور دیا کہ اگر عالمی اقتصادی اداروں پر بھی دباؤ نہ ہوتا تو وہ عدل و انصاف کی بنیاد پر منصفانہ طور پر کام کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی تعلقات پر سچائی اور صداقت کی حکمرانی ہوتی تو تمام قومیں اور حکومتیں یکساں اور عادلانہ حق کے ساتھ آزادانہ طور پر عالمی امور میں شرکت کرتیں اور انسانیت کی سعادت و بھلائی کے لیے کوشش کرتیں۔اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار پر سخت تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سلامتی کونسل بند گلی میں پہنچ چکی ہے اور وہ عالمی امن قائم کرنے پر قادر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سلامتی کونسل کے دو رکن ملک اپنے ارادے اقوام متحدہ کے تمام ارکان پر مسلط کرتے ہیں اس کے علاوہ دنیا میں جتنی بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں ان میں ایک فریق سلامتی کونسل کے ان دو ارکان میں سے کوئي ایک ہے۔
.....
/169