15 ستمبر 2012 - 19:30

آل شیعہ پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کی شوری عالی کے سربراہ نے کہا کہ شیعہ نسل کشی کے حوالے سے غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں کی جائیں اور ان سے استدعا کی جائے کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کو عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کے لیے قائل کریں۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے رکن شوریٰ عالی علامہ شیخ صلاح الدین نے کہا ہے کہ تکفیری فتوؤں کو علمی ماحول میں چیلنج کیا جائے۔ اس مسئلے کو عوام تک نہ جانے دیا جائے اور سو فیصد علمی ماحول میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک مضبوط پلیٹ فارم ہو جس پر وحدت بین المسلمین اور وحدت بین المومنین پر زور دیا جائے۔ سیاسی میدان میں صدر، وزیراعظم، گورنر، عدلیہ کے سربراہ اور فوج کے سربراہ سے مذہبی سطح پر ہمارا نمائندہ وفد ملاقات کرے اور صوبوں میں بھی اسی سطح پر کام کیا جائے۔ فوج کے سربراہ سے ملاقات میں قوم کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے۔ آل شیعہ پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا سے مضبوط روابط قائم کیے جائیں تاکہ مظلومیت کی آواز کو تبایا نہ جاسکے۔ سنی مراجع علم اور سیاسی و علمی شخصیات سے ملاقاتیں کی جائیں اور ان سے تکفیری فتوؤں کی حقیقت معلوم کی جائے۔علامہ صلاح الدین کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے گلگت بلتستان کے واقعہ کا ایکشن لیا تھا، اس ضمن میں اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کیا جائے اور استدعا کی جائے کہ پاکستان میں ہمارا تحفظ یقینی بنانے میں ہماری مدد کرے۔ اقوام متحدہ میں موجود پاکستان کے نمائندے کے خلاف مہم چلائی جائے کہ وہ کیوں خاموش ہیں۔ شیعہ نسل کشی کے حوالے سے غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں کی جائیں اور ان سے استدعا کی جائے کہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کو عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کے لیے قائل کریں۔...../169