ابنا: ليبيا ميں آئے دن قبائل کے درميان جھڑپيں ہوتي رہتي ہيں جو اپني جگہ پر کسي نئي فتنہ انگيزي کا پيش خیمہ بن سکتي ہيں- ليبيا ميں ہونے والي تازہ جھڑپوں ميں بارہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمي ہوئے ہيں-يہ جھڑپيں درالحکومت طرابلس کے مشرقي علاقوں ميں ہوئيں – زلتان شہر حاليہ چند روز کے دوران قبائلي جھڑپوں کا مرکز بنا رہا ہے اور سب سے اہم بات يہ ہے کہ ليبيا ميں ہونے والي ہر قبائلي لڑائي ميں فريقين نے ايک دوسرے کے خلاف ہلکے اور بھاري ہتھياروں کا آزادانہ استعمال کيا ہے-يہي وجہ ہے کہ ان جھڑپوں ميں زبردست جاني اور مالي نقصان ہوا ہے-زنتان شہر کے شقيقہ نامي علاقے ميں دو ماہ قبل ہونے والي قبائلي جھڑپوں ميں ايک سو افراد ہلاک اور پانچ سو سے زيادہ زخمي ہوئے تھے- يہاں ايک بات پوري طرح واضح ہے کہ ان جھڑپوں کا جاري رہنا ليبيا اور اس کے انقلاب کے لئے انتہائي خطرناک ہے, خاص کر اس لئے بھي کہ سابق ڈکٹيٹر معمر قذافي کے حامي اب بھي اس ملک ميں پوري طرح سرگرم ہيں اور نئے ليبيا ميں جاري سياسي عمل کو نقصان پہنچانے کے لئے کوئي بھي موقع ہاتھ سے جانے نہيں ديتے-حاليہ ايک برس کے دوران ملک کے مشرقي، شمالي اور جنوبي علاقوں ميں جو قبائلي جھڑپيں ہوتي رہي ہيں ان ميں قذافي کے حامي تنازعہ کا ايک فريق رہے ہيں- ليبيا ميں اب بھي ايسے قبائل موجود ہيں جو سابق آمرانہ نظام کے سخت حامي ہيں- قذافي کے حاميوں کے علاوہ انقلاب کے زمانے ميں قبائيلوں اور عام لوگوں کے ہاتھ لگنے والے ہلکے اور بھاري ہتھيار جو اب بھي انکے پاس موجود ہيں ملک کے لئے انتہائي خطرناک ثابت ہوسکتے ہيں-ليبيا کي قومي سلامتي کميٹي کے ترجمان نے کہا ہے کہ مشرقي طرابلس کے قريب ايک ايسي چھاؤني کا پتہ لگا ہے جس ميں ايک سو ٹينک اور چھبيس راکٹ لانچر موجود ہيں-سب سے اہم بات يہ ہے کہ يہ چھاؤني قذافي کے حاميوں کي تھي جو وفادار بريگيڈ کہلاتے تھے- انہوں نے کہا کہ ہم يہ سمجھ رہے تھے کہ يہ بريگيڈ ملک اور انقلاب کي دفاع کر رہا ہے ليکن بات اس کے بالکل برخلاف نکلي-جيسا کے ليبيا کے عہديدار کہہ رہے ہيں وفادار بريگيڈ کے لوگ فوج اور ديگر سيکورٹي اداروں ميں گھس چکے ہيں لہذا اس بات کو سمجھنا مشکل نہيں ہے کہ ليبيا کي اندروني جھڑپيں قذافي کے حامي بريگيڈ کے اقدامات کا نتيجہ ہيں-بہر حال بہت سے سياسی حلقوں کا خيال ہے کہ ليبيا ميں جاري قبائلي جھڑپيں دراصل اس ملک ميں اقتدار کي خفيہ جنگ کا حصہ معلوم ہوتي ہيں.
.......
/169