ابنا: یہاں بہتر ہوگا کہ شہید محمد علی رجائی کی انقلابی شخصیت کا جائزہ لیں جو عالمی سامراج خصوصا امریکہ کو برداشت نہیں تھی اور امریکہ ان کی حکومت کو دو ماہ سے زیادہ برداشت نہ کرسکا اور اس نے اپنے زرخرید ایجنٹوں کے ذریعے بالآخر ان کو شہید کرادیا۔ شہید محمد علی رجائی نے اپنی سماجی و سیاسی سرگرمیوں کا آغاز تدریس سے کیا ۔انہوں نے تدریس کے ساتھ ساتھ شاہی حکومت کے خلاف جد وجہد شروع کی جو اسلامی انقلاب کی کامیابی تک جاری رہی ۔جد وجہد کے دوران انہوں نے جیل میں بہت اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کیں ۔ وہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وزیر تعلیم ، رکن پارلمان ، وزير اعظم اور پھر صدر جمہوریہ کے عہدے پرفائز ہوئے ۔ انہوں نے اپنی صدارت کے وقت مفکر اور عالم دین ڈاکٹر جواد باہنر کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے منتخب کیا جو شاہی حکومت کے خلاف جد وجہد میں تابناک ماضی کے حامل تھے ۔ چونکہ شہید رجائی اور شہید باہنر مخلص اور منکسرالمزاج انسان تھے اور ساتھ ساتھ اسلامی انقلاب کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کی راہ میں پوری جواں مردی سے ڈٹے ہوئے تھے ، اس لئے انقلاب کے دشمنوں کی آنکھ کا کانٹا بن گئے اور دہشت گردوں نے جو پہلے سے ہی اسلامی جمہوریۂ ایران کے خلاف اپنی جنگ کاآغاز کرچکے تھے وزیر اعظم کے دفتر میں دھماکہ کرکے محمد علی رجائی اور جواد باہنر کو شہید کردیا۔ عام طور سے مسند اقتدار پر براجمان اصحاب اقتدار اور عوام کے درمیان کبھی نہ پٹنے والا فاصلہ دیکھنے میں آتا ہے حکمران طبقہ ہرطرح کے وسائل و ذرائع اور مادی امکانات سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور ان ہی وسائل وذرائع کے سہارے عوام پراپنا تسلط قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف سے عوام ہر طرح سے پسماندہ اور مادی ذرائع سے بے بہرہ رہتے ہیں لیکن ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایک نیا منظر سامنے آیا وہ حکومت اور عوام میں برابر کا رابطہ تھا دنیا والے یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کیا حکمران طبقہ بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا تعلق عوام سے ہے ،جی ہاں انقلاب اسلامی کے بعد آنے والی حکومت ایسی ہی تھی اور ہے اس حکومت میں عوام اور حکمرانوں میں کسی طرح کا فاصلہ نہیں پایاجاتا دونوں ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں حکومت میں ایسے باایمان اور ماہر افراد شامل ہیں جو عوام کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں اور عوام بھی دل و جان سے ان کے حامی اور پشت پناہ ہیں۔ شہید محمد علی رجائي کی حکومت اور عوام کا رابطہ ایمان و باہمی اعتماد کی اساس پر قائم تھا عوامی رابطے سے حکومت کو جواز اور قانونی حیثیت حاصل ہوتی تھی اور اسی رابطے کے تحت قوم جو معاشرے کا بنیادی ترین رکن ہے، اپنے انسانی اور برحق مطالبات و اہداف حاصل کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرتی تھی ۔ رجائی اور باہنر محنتی اور مخلص انسان تھے ۔انہوں نے اسلامی نظام کی تاریخ میں اپنی صداقت اخلاص اور خدمتگزاری کی ایسی میراث چھوڑی ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گي۔ شہید رجائي اپنی محنت و خلوص سے اعلیٰ ترین عہدوں تک پنہچے تھے وہ ایک نہایت سادہ اور بے لوث انسان تھے ان کی زندگي میں کسی طرح کا مادی زرق برق دیکھنے کو نہیں ملتا ان کی سادہ زندگي ،انقلاب سے پہلے ہو یا انقلاب کے بعد صدر بننے کے بعد ہو زبان زد خاص وعام تھی ،جب وہ وزیر اعظم اور صدر کے عہدوں پرفائز ہوئے تو ان کی زندگي میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئي وہ محروموں اور پسماندہ لوگوں کے درد سے آشنا تھے اور ہمیشہ ان کی مددکرنے کی فکر میں رہتے تھے ،ان کے وجود میں انقلاب کے اہداف و مقاصد رچ بس گئے تھے ،ایمان اور شجاعت ان کی ذات کا خاصہ تھا وہ ایک سنجیدہ ،ٹھوس ارادے کے حامل کبھی نہ تھکنے والے انسان تھے ان کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ شہید رجائي اسلامی انقلاب کو انبیاء کے انقلاب کا تسلسل سمجھتے تھے ان کی نظر میں اسلامی انقلاب آج انسان کی سربلندی کا باعث تھا ،ان کا خیال تھا کہ اسلامی حکومت کی باگ ڈور اگر ولی فقیہ جوکہ زمانہ شناس اور مدبر ہوتا ہے رہے تو اس کو دیگر حکومتوں سے خاص امتیاز حاصل ہوجاتا ہے ۔شہید رجائي کا کہنا تھا کہ اسلامی حکومت کے تین بنیادی رکن ہیں ۔قیادت ،عوام اورحکومت ۔اور یہ تینوں رکن آپس میں بہم پیوستہ ہیں اور باہمی تعاون سے محرومیت کی بیخ کنی اور ملک کی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور ان کا ہدف ملک میں عدل وانصاف کا قیام ہے۔ شہید رجائي جب صدر اور وزیر اعظم تھے امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ کو اپنا مرکز و محور سمجھتے تھے وہ ہمیشہ آپ کے نظریات وافکارکو مشعل ہدایت سمجھتے تھے اور ان پر عمل کیا کرتے تھے ،ان کی صدارت کے دوران ان کے دوست اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر بھی عارف بیدار دل تھے وہ ایک دانشور اور فرض شناس استاد تھے انہوں نے اپنی ساری زندگي ایران کی مسلمان قوم کی خودمختاری اور سربلندی کی راہ میں گذاردی درحقیقت شہید رجائی یا باہنر ایک اسلامی حکومت کے مثالی عہدیداروں کا مکمل نمونہ تھے اور انہوں نے عملا" ایک اسلامی حکومت کا نمونہ پیش کیا ۔ان دونوں شخصیات نے یہ عمل کردکھایا کہ انسان اعلیٰ ترین حکومتی منصب پرفائزرہنے کے باوجود خداپرست، متواضع اور عوام کا خدمت گزار رہ سکتا ہے اور سادہ اور بےلوث زندگي گذارسکتاہے، حضرت امام خمینی(رح) فرماتے ہیں "جناب باہنر اور جناب رجائي کی اہمیت اس میں ہےکہ وہ ہمارے اپنے تھے عوام سے تھے عوام کے خدمت گذار تھے مخلص اور سادگی پسند ہے۔ امام خمینی (رح) کے اس ارشاد کی روشنی میں ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ شہید رجائي اور باہنر کی حکومت اسلامی حکومت کا مظہر تھی یعی ایسی حکومت جس میں احساس برتری اور مطلق العنانی نہیں تھی وہ اقتدار کو اپنی ذمہ داری ، امانت اور عوام کی خدمت کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ دنیا کے حالات پر انقلاب اسلامی کے عظیم اثرات اور اس بات کا باعث بنے کہ دشمنوں نے انقلاب اسلامی اور رجائي کی حکومت کو گرانے کے لئے آپس میں ہاتھ ملالۓ ،اس وقت کے امریکہ کے صدر نے صاف لفظوں میں کہاتھا کہ رجائي کی حکومت کوگرانا ہوگا اس کے بعد سامراج سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے بھرپورطرح سے رجائي حکومت کے خلاف پروپگینڈا کرنا شروع کیا لیکن شہید رجائي نے ان سازشوں کو خاطر میں لائے بغیر اپنا اسلامی فریضہ نبھاتے رہے اس وقت شہید رجائي کا سار ہم وغم یہ تھا سیاسی سماجی اور اقتصادی لحاظ سے مناسب قوانین تیارکرکے اسلامی انقلاب کے فروغ کی ترقی اور ایران کی مسلمان قوم کی سعادت کی راہ ہموار کریں ۔خود ان کا کہنا ہےکہ جب سے انہوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا تھا وہ انسان کی سعادت مندی کی فکر میں تھے ۔بہرحال شہید رجائي کی حکومت کے منصوبوں سے دنیا والوں کے سامنے انقلاب اسلامی کی واضح اورشفاف تصویر سامنے آئي اور دنیا والے یہ سمجھ گئے کہ ایران کی حکومت صحیح معنی میں عوامی حکومت ہے اور حکومت کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کی حکومت جو بلاشبہ ایک عوامی حکومت ہے، رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی انقلاب کے اہداف و مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مناسب اقدامات کررہی ہے۔.......
/169