22 اگست 2012 - 19:30

امريکي فوج کے سربراہ منگل کوبغداد پہنچے ہيں - ان کے دورے کے بارے ميں کہا جارہا ہے کہ امريکا عراق ميں پير جمانے کي کوشش کررہا ہے - اسي کے ساتھ اس دورے کو شام کے بحران کے تناظر ميں بھي ديکھا جارہا ہے -

ابنا: جنرل ديمپسي کا يہ دورہ عراق سے امريکي فوج کے انخلا کے آٹھ ماہ کے بعد انجام پارہا ہے، جنرل ڈيمپسي نے کہا ہے کہ وہ  باہمي تعلقات کے فروغ پر بات چيت کرنے کے لئے عراق آئے ہيں کوئي درخواست ليکر نہيں ليکن خطے کي صورتحال اور خاص طور پر بحران شام کے تناظر ميں ايسا بعيد نظر آتا ہے کہ جنرل ڈيمپسي محض بغداد واشنگٹن تعلقات پر بات چيت کے لئے آئے ہوں-


اس بات ميں کوئي شک نہيں کہ شام کے بارے ميں امريکہ کا موقف اور شام مخالف مغرب عرب مشترکہ محاذ کے لئے ديگر عرب ملکوں کي حمايت حاصل کرنے کي غرض سے کي جانے والي امريکي کوشش ہي دراصل شام کے ہمسايہ ملکوں کے ساتھ امريکي حکومت کے  صلاح و مشورے کا اصل محور ہيں-
بغداد نے تاحال امريکہ اور اسي طرح سعودي عرب ، قطر اور ترکي جيسے ملکوں کے شام مخالف موقف کي حمايت نہيں کي ہے اور اسي وجہ سے يہ ممالک عراق سے سخت نالاں ہيں-

ترکي نے شام کے بارے عراق کا موقف تبديل کرنے کروانے کے لئے اس کے خلاف دباؤ کے کئي حربےاستعمال کئے ہيں-

عراق کي مرکزي حکومت کے علم ميں لائے بغير ترکي کے وزير خآرجہ احمد داود اوغلو نے عراقي کردستان کے علاقے کرکوک کا دورہ اور مقامي حکام سےملاقات کي جو عراق کو دبانے کي ايک کوشش ہے-

ترکي کے اس اقدام کے تناظر ميں بہت سے تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امريکي فوج کے سربراہ جنرل ڈيمپسي بھي عراق کے علاقائي موقف پر اثر انداز ہونے کي غرض سے بغداد پہنچے ہيں-

خاص طور پر اس لئے بھي تہران ميں جلد ہي وانستہ تحريک اجلاس بھي ہونے والا ہے لہذا يہ بات بعيد از قياس نہيں ہے کہ امريکي جوائنٹ چيف آف اسٹاف تہران اور دمشق کے حوالے سے کوئي پيغام ليکر عراق آئے ہوں-
بہرحال جو بات پوري طرح واضح ہے وہ يہ کہ امريکہ اب بھي عراق ميں کہيں نہ کہيں پير رکھنے کي جگہ تلاش کررہا ہے کيونکہ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ عراق ميں اپنے پير مضبوط کرکے وہ وہاں سے ہمسيايہ ملکوں کے حالات کو آساني کے ساتھ کنٹرول کرسکتا ہے
ليکن خطے کے بعض ملکوں کے اندروني معاملات ميں اس طرح کي امريکي مداخلت کے بارے ميں عراقي حکام نے منفي جواب ديا ہے-

عراق کئي بار کہہ چکا ہے وہ خطے کے کسي بھي ملک کے اندروني معاملات ميں مداخلت کے لئے اپني سرزمين کے استعمال کي ہرگز اجازت نہيں دے گا-
.......

/169