19 اگست 2012 - 19:30

ہندوستان اور پاکستان ميں آج عيد الفطر پورے مذہبي جوش و خروش کے ساتھ منائي جا رہي ہےـ

ابنا: پاکستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر کي تمام چھوٹي بڑي مساجد اور عيدگاہوں ميں عيد الفطر کي نماز ادا کي جارہي ہے  ـ اس موقعے پر ملک اور اہل وطن کي سلامتي اور ترقي و خوشحالي کي دعائيں کي جارہي ہيں  ـ

بعض مقامات پر کھلے ميدانوں ميں نماز عيد کا اہتمام کيا گياـ

عيد الفطر کے موقعے پر ملک بھر ميں سيکورٹي کے زبردست انتظامات کئے گئے ہيں ـ

کراچي، لاہور، کوئٹہ اور ملتان ميں دہشت گردانہ حملوں کے خطرے کي بنا پر موبائل فون سروسز صبح دس بجے تک معطل کر دي گئيں ـ

ہندوستان ميں بھي آج صبح سے ہي  مساجد اور عيدگاہوں ميں فرزندان توحيد کے روح پرور اجتماعات منعقد ہورہے ہيں  اور پورے ملک ميں لوگ انتہائي  عشق و عقيدت کے ساتھ نماز عيد ادا کررہے ہيں  ـ

اس موقع پر انہوں نے ميانمار اور آسام کے مسلمانوں کے مصائب و مشکلات کے خاتمے کي دعائيں کي -

ہندوستان کے صدر جمہوريہ پرنب مکھرجي ، وزير اعظم منموہن سنگھ اور نائب صدر حامد انصاري نے عيد الفطر کي مناسبت سے پوري قوم خاص طور پر مسلمانوں کو مبارکباد پيش کرتے ہوئے عيد کو امن و بھائي چارے اور  رواداري کا تيہوار قرارديا

-------

ہندوستان کے زير انتظام کشمير کے دارالحکومت سري نگر ميں آج نماز عيد کے بعد لوگوں نے پرتشدد مظاہرے کئے

سري نگر ميں پوليس کا کہنا ہے کہ نماز عيد کے بعد لوگوں نے مظاہروں کي شکل ميں وادي ميں ہندوستاني فوج کي مبينہ زيادتيوں کے خلاف نعرے لگائے اور وہاں موجود پوليس اہلکاروں پر پتھراؤ بھي کيا -  پوليس نے  مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کيا -
مظاہرين کشمير کي آزادي کے حق ميں ہندوستان کي حکومت کے خلاف نعرے لگارہے تھے-
پوليس نے مظاہرين کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گيس کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ لاٹھي چارج بھي کيا-
اس دوران اطلاعات ہيں کہ کئي گاڑيوں کو بھي آگ لگادي گئي - پوليس حکام اور عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ مظاہرين اور پوليس کے درميان جھڑپيں کافي دير تک جاري رہيں تاہم کسي جاني نقصان کي اطلاع نہيں ہے
.......

/169