ابنا: او آئي سي کے افتتاحي اجلاس سے سعودي عرب کے بادشاہ ملک عبداللہ بن عبدالعزيز نے مختصر خطاب کيا- اجلاس ميں شام کے بحران اور ميانمار کے روہنگيا مسلمانوں پر تشدد کے علاوہ مشرق وسطي کي صورتحال پر غور کيا جارہا ہے-
اجلاس ميں صدر احمدي نژاد اسلامي جمہوريہ ايران کي نمائندگي کر رہے ہيں- ايران وزير خارجہ علي اکبر صالحي، وزير ثقافت محمد حسيني، وزير سائنس و ٹيکنالوجي کامران دانشجو اور صدر کے معاون خصوصي مجتبي ثمرہ ہاشمي کے علاوہ کئي اور وزار بھي صدر احمدي نژاد کے ساتھ اس اجلاس ميں شريک ہيں-
اجلاس سے سينگال کے صدر ماکيس سال نے بھي خطاب کيا- انہوں نے اپنے خطاب ميں عالم اسلام کو درپيش مسائل کا ذکر کيا اور شام، فلسطين، ميانمار اور مالي سميت عالم اسلام کي مشکلات کو حل کئے جانے کي ضرورت پر زور ديا-
او آئي سي کے سيکريٹري جنرل اکمل الدين احسان اوغلو نے بھي عالم اسلام کے مسائل پر روشني ڈالتے ہوئے تنظيم کے سربراہوں سے اپيل کي کہ وہ ان مسائل کے حل کي کوشش کريں- او آئي سي کا سربراہي اجلاس آج دوسرے دن بھي جاري رہے گا –
.......
/169