ابنا: امام خمینی (رہ) نے اپنے ایک روحانی خطاب میں جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اے مسلمانو جمعۃ الوداع اجتماعی وحدت کی علامت ہے، اس دن کو القدس کی آزادی کے طور پر مناؤ، فلسطین کی آزادی کے لیے پختہ ارادہ و عزم کر لو۔ امام خمینی (رہ) کے اس اعلان کو دنیا بھر کے مفکرین نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا اور یہ امید ظاہر کی گئي کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا اسرائیل سے نجات اور اس کے خاتمے کی خوشخبری سنے گی۔ آزاد فلسطین کا دیرینہ خواب کب کا پورا ہوچکا ہوتا، اگر چند نام نہاد اسلامی ریاستیں اپنے وسائل اور اختیارات سمیت سامراج کی گود میں سر نہ چھپاتیں۔ یہ ضمیر فروش حکمران اقتدار اور مسند شاہی کو امریکہ برطانیہ کی عنایت سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر عمل و اقدام امریکہ اور اس کے حواریوں کی خوشنودی سے وابستہ ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژاد نے اپنی تاریخی تقریروں میں جب اسرائیل کے وجود پر مبنی نظریہ ہولو کاسٹ پر تنقید کی تو مغربی میڈیا اور امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور یورپ کے تمام حکمران اور نمائندے، شدت سے چیخ اٹھے، جیسے ملت کے اس سپاہی نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ اگر بفرض محال ہولوکاسٹ کے اس نظریہ کو درست بھی مان لیا جائے تو جن ملکوں میں اس کا ارتکاب کیا گيا وہاں صیہونی ریاست قائم کی جانی چاہیے تھی نہ کہ فلسطین میں، اور وہ بھی اس سرزمین کے باشندوں کو ان کی سرزمین سے بےدخل کر کے۔ فلسطینی سرزمین پر غاضب صیہونی حکومت کا قیام امریکہ برطانیہ اور نام نہاد مہذب مغربی حکومتوں کے چہروں پر بدنما داغ ہے کہ جو زبان سے تو عدل و انصاف کا دم بھرتی ہیں لیکن اپنے مکروہ عمل کی تلوار سے اس کا گلا کاٹتی ہیں۔ مسئلہ فلسطین ان کی اس درندگی کی زندہ مثال ہے۔آج امریکہ اور صیہونیت کی سرکردگی میں سامراجی طاقتیں فلسطینی کاز اور فلسطینی قوم کے حامی ملکوں کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں اور وہ فلسطین کے ایک بڑے اور اہم حامی ملک شام کے خلاف سرگرم ہیں۔ شام کے بحران اور اس ملک میں تسلط پسند طاقتوں کے اقدامات پر ایک نظر ڈالنے سے یہ صاف واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ملک، گھناؤنی بیرونی سازشوں کا شکار ہے۔ شام کے خلاف سازشوں کا مقصد، اس ملک کو کمزور بنانا اور مشرق وسطی میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندی اور مغربی ملکوں کی تسلط پسندی کے مقابلے میں اسے استقامت و مزاحمت سے دستبردار کرانا ہے ۔علاقے میں اسرائیل کے خلاف شام کی استقامت کی بناء پر ہی اس ملک کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ۔ شام نے مشرق وسطی میں امریکہ اور اسرائیل کے تمام توسیع پسندانہ منصوبوں کے مقابلے میں مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے سازشوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اس وقت شام کے خلاف ایک ایسی سازش کی جا رہی ہے جس کا مقصد،علاقے میں شام کو کمزور اور اسرائیل کو طاقتور بنانا اور لبنان کو صیہونی حکومت کے ساتھہ سازباز پر مجبور کرنا ہے ۔ شام کے خلاف اس عالمی جنگ کی قیادت، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کر رہے ہیں اور اس کے لیے سرمایہ سعودی عرب اور قطر جیسے عرب ممالک فراہم کر رہے ہیں۔یوم القدس ہر ظالم کے ظلم کی نفی کرنے کا بہترین موقع ہے۔ جب تک عالمی ناانصافیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، اس وقت تک پرامن دنیا کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ یوم القدس ملت اسلامیہ کے اجتماعی حقوق کا محافظ ہے، جو ہر مسلمان کو اپنی شرعی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا کے مسلمان ظلم و جارحیت، قبضے اور بربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے اور اپنے اتحاد اور یکجہتی کے ذریعے عالم اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔
.......
/169