ابنا: عراقی وزیراعظم نوری مالکی نےکہاہے کہ وہ ممالک جودوسرےممالک کےامور میں مداخلت کرتےہیں، اپنی ہی لگائي ہوئی آگ میں جل جائيں گے۔نوری مالکی نےکہاکہ عراق اس وقت علاقےکےان ملکوں میں شامل ہے جوآگ میں جل رہا ہے۔ عراقی وزیراعظم نےتاکیدکےساتھ کہاکہ جوآگ لگی ہوئي ہے اس میں صرف جاہل ، فسادی ، قبیلہ پرستی کےحامی، اور توسیع پسندانہ افکار کےحامل ہی نہيں جلیں گے بلکہ اس آگ میں سب جل جائيں گے۔نوری مالکی نےاگرچہ اپنےبیان میں کسی خاص ملک کانام نہيں لیا لیکن ایسانظرآتاہے کہ ان کااشارہ ترکی کی جانب ہے بالخصوص ایسی حالت میں جب ترکی کےوزیرخارجہ داؤد اوغلونے عراقی کردستان کےکرکوک علاقےکادورہ کرنےکےبعدجونیاموقف اختیارکیاہے۔ابھی حال ہی ترکی کےوزیرخارجہ داؤد اوغلو نےایک اشتعال انگیزقدم اٹھاتےہوئے، بغداد حکومت کی ہماہنگی اوراطلاع کےبغیرعراقی کردستان کادورہ کیا اوروہاں عراقی کردستان کی انتظامیہ کےصدرمسعود بارزانی سےملاقات کی ۔ بغداد حکومت کی نظرميں یہ موضوع عراق کےاقتداراعلی کی خلاف ورزی تصورکیاگیا اوراس بات کےپیش نظرکہ بغداد اورانقرہ کےدرمیان عرصےسے کدورت تھی، طرفین کےدرمیان مزیدکشیدگی کاسبب بنی ہے۔ بالخصوص یہ کہ عراق اورترکی شام کےبحران پرایک دوسرےسےاختلاف رکھتےہيں۔بحران شام کےسلسلےمیں عراق نےمغربی عربی محاذ کاساتھ نہيں دیااس کی وجہ سےنہ صرف اسےعرب حکومتوں اورامریکہ کےغصےکاسامناہے بلکہ ترکی جوشامی دہشتگردوں کاایک اصلی حامی شمارہوتاہے ، عراق کےخلاف دشمنانہ موقف اختیارکئےہوئےہے۔اس وقت ترکی ، شام اورعراق سمیت علاقےکےبعض ممالک کےساتھ جنگ افروزی کی پالیسی اختیارکئےہوئےہے،اور شام کےبحران میں دہشتگردوں کاساتھ دےرہا ہے اوروہ بارہا استنبول میں شام کےسیاسی نظام کےمخالفین کی میزبانی کرتارہا ہے۔ عراق کےسلسلےمیں بھی وہ عراقی کردستان کےحکام سےنزدیکی اختیارکرکے حکومت بغداد اور کردوں کےدرمیان فاصلہ ڈالنےکےساتھ ہی اس ملک میں قبائلی فتنہ برپاکرناچاہتاہے۔مختصریہ کہ علاقےکےبعض ممالک بالخصوص عراق اورشام کےسلسلےميں ترکی کی پالیسی علاقےکےامن واستحکام کودرپیش خطرات میں سےایک ہے ۔ایساخطرہ جسےنوری مالکی جنگ کی آگ بھڑکانے اورفتنہ پیداکرنےسےتعبیرکررہےہیں۔ ایک ایسافتنہ جس کےمنفی نتائجکےنقصانات علاقےکےتمام ممالک کوجھیلنا پڑيں گے اورشاید یہ کہناغلط نہ ہوکہ اس میں سب سےزيادہ فائدہ مغرب اورامریکہ کوہوگا جوعلاقےکےبعض ممالک کی حکومت تبدیل کرناچاہتےہیں۔
.......
/169