7 اگست 2012 - 19:30

تنزانیہ کے مسلمان جو حد درجہ ماہ مبارک رمضان کی اہمیت کے قائل ہیں پندرہ شعبان سے ہی ماہ مبارک کے استقبال میں تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ سڑکوں کو چراغاں اور مزین کرتے ہیں مساجد کو زینت دیتے ہیں اور اپنے اپنے رشتہ داروں کو ہدایا اور تحائف عطا کرتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان کے لیے آمادہ ہونے کی خاطر تنزانیہ کے لوگ پندرہ شعبان کے بعد ہر پیر اور بدھ کو روزہ رکھتے ہیں۔ وہ روزہ رکھنے کو بارہ سال کی عمر سے واجب جانتے ہیں۔ اور جو شخص اللہ کی عبادت نہیں کرتا ان کے ہاں کافر اور ملحد ہے۔ عمومی جگہوں اور مجمع عام میں روزہ توڑنا اور روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کھانا پینا ان کے ہاں سخت سزا کا باعث ہے۔ تمام ہوٹل، ٹی سٹال دن میں بند ہوتے ہیں اور افطار کے وقت کھلتے ہیں۔ اور ماہ مبارک میں ایسی فضا بن جاتی ہے کہ غیر مسلمان بھی دن میں کھلے عام کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں۔شربت، قہوہ، چاول، مچھلی اور سبزیاں افطار میں ان کی اصلی غذائیں ہیں۔

.......

/169